Masarrat
Masarrat Urdu

شریعت ایپلی کیشن ایکٹ، 1937 کو عدالتی طور پر کالعدم قرار دینے کے بجائے،یکساں سول کوڈ لانے کے لیے پارلیمان کی حکمت پر چھوڑ دینا بہتر: سپریم کورٹ

Thumb

نئی دہلی ،10مارچ (مسرت ڈاٹ کام) ہندوستان کی سپریم کورٹ نے منگل (10 مارچ 2026) کو زبانی طور پر یہ تبصرہ کیا کہ مسلم خواتین کو ان کے مرد ہم منصبوں کے مقابلے میں خاندانی وراثت میں کم حصہ دینے کے امتیازی سلوک کی بنیاد پر ’شریعت ایپلی کیشن ایکٹ، 1937‘ کو عدالتی طور پر کالعدم قرار دینے کے بجائے،یکساں سول کوڈ لانے کے لیے پارلیمنٹ کی حکمت پر چھوڑ دینا بہتر ہوگا۔سپریم کورٹ نے منگل کے روز مسلم پرسنل لا کے تحت خواتین کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزی کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کی سماعت کے دوران ملک میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کی وکالت کی۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے کی۔ عدالت نے پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ پرسنل لا کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اقدامات کرے۔ رپورٹ کے مطابق جسٹس باگچی نے کہا کہ پرسنل لا کو کالعدم قرار دے کر ایک خلا پیدا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ کے اختیار پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ یکساں سول کوڈ پر قانون بنا سکے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے جسٹس باگچی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل دراصل یکساں سول کوڈ ہی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے عرضی گزاروں سے مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ 1937 کے خلاف دائر ان کی عرضی کے بارے میں بھی سوالات کیے۔ عرضی گزاروں کا مؤقف ہے کہ اس قانون کی بعض دفعات مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہیں، جن میں وراثت کا معاملہ بھی شامل ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر 1937 کے قانون کو چیلنج کیا جا رہا ہے تو پھر اس کی جگہ کون سا قانون نافذ ہوگا اور اس سے پیدا ہونے والے خلا کا کیا ہوگا؟ عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت میں دلیل پیش کی ۔

 

Ads