کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جئے رام رمیش نے اتوار کی دیر رات جاری ایک بیان میں کہا کہ محض وزارتی بیان کافی نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس حوالے سے حکومت کی حکمتِ عملی پر تحفظات کا اظہار کیا۔
جئے رام رمیش نے وزارتی بیانات کی خامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ایسے بیانات میں عام طور پر وہی معلومات ہوتی ہیں جو پہلے سے پبلک ڈومین میں موجود ہوں، ان میں کوئی نئی یا اہم بات کم ہی سامنے آتی ہے۔ وزارتی بیان کے بعد ارکانِ پارلیمنٹ کو سوالات پوچھنے یا کسی نکتے پر وضاحت طلب کرنے کا موقع نہیں ملتا، جو کہ جمہوری عمل کے خلاف ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے جامع بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے 2003 کی ایک مثال پیش کی۔"8 اپریل 2003 کو لوک سبھا میں عراق پر امریکی حملے کے خلاف زوردار بحث ہوئی تھی اور اس کی مذمت میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی تھی۔ اس وقت اٹل بہاری واجپائی وزیرِ اعظم تھے، جو 'راج دھرم' (حکمرانی کے اصولوں) کے تئیں پوری طرح وقف تھے۔کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ حکومت مغربی ایشیا کے بحران پر اپنی پالیسی کو واضح کرے اور ایوان کو موقع دے کہ وہ اس عالمی مسئلے پر اپنی رائے اور خدشات کا اظہار کر سکے۔
