دوبئی، 8 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) اسرائیلی فوج نے ہفتے کی شام اعلان کیا کہ اس نے ایرانی شہر قُم میں سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ہونے والے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائے ادرعی نے بتایا کہ فوج نے تہران اور وسطی ایران کے دیگر علاقوں میں فوجی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ ایرانی میڈیا نے وسطی تہران میں بسیج فورس کے ایک اڈے پر دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاع دی ہے۔ اویچائے ادرعی نے ’’ ایکس ‘‘ پر بتایا کہ اس حملے میں اسرائیلی فضائیہ کے 80 سے زیادہ لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا اور مختلف فوجی مقامات پر لگ بھگ 230 گولے گرائے گئے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ نشانہ بنائے گئے اہداف میں پاسدارانِ انقلاب کی مرکزی ملٹری یونیورسٹی (امام حسین یونیورسٹی) بھی شامل ہے جو ہنگامی سہولت اور فورسز کے اجتماع کے مرکز کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں میزائل یونٹ کا سٹوریج ایریا، بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی کی زیرِ زمین تنصیبات، بنکرز اور فوجی ہیڈ کوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اویچائے ادرعی نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے مغربی اور وسطی ایران کے کئی علاقوں میں میزائل لانچنگ پیڈز کو بھی نشانہ بنایا تاکہ اسرائیل کی طرف میزائل داغنے کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ایران کے اندر بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار سے متعلق انفراسٹرکچر پر حملوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی آپریشن جاری ہے۔
دوسری طرف ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے کئی علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان علاقوں میں وسطی تہران میں بسیج کا ایک اڈہ بھی شامل ہے۔ تہران کے مغرب میں واقع شہر قزوین میں بھی دھماکے ہوئے۔ سرکاری خبر ایجنسی ’’ مہر ‘‘ نے تہران میں بڑے دھماکوں کی اطلاع دی۔ ایرانی حکام کے مطابق وسطی ایران کے شہر اصفہان پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق تہران شدید دھماکوں سے لرز اٹھا۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ’’ ایکس ‘‘ پر تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے آپریشن ’’ ایپک فیوری ‘‘کے پہلے ہفتے میں تین ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ سینٹ کام نے کہا کہ ہم نہیں رکیں گے۔ تہران کے میئر علی رضا زاکانی نے کہا کہ کوئی بھی حملہ دارالحکومت کو مفلوج نہیں کر سکتا۔
