Masarrat
Masarrat Urdu

امیروں اور غریبوں کے لیے مفت سرکاری سہولیات میں ایمانداری ضروری ہے: راہل

Thumb

نئی دہلی، 8 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وہ غریبوں اور امیروں کو ملنے والی مفت سرکاری سہولیات کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اس بارے میں غور کرتے وقت ایمانداری بہت ضروری ہے۔

راہل گاندھی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ غریبوں کو دی جانے والی سرکاری سہولیات کا مذاق اڑایا جاتا ہے جبکہ امیر لوگوں کو دی جانے والی سہولیات کو 'اعزاز' قرار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ "جب غریبوں کو گزر بسر کے لیے سبسڈی ملتی ہے، تو اسے 'ریوڑیاں' اور 'مفت سہولیات' کہا جاتا ہے۔ جب اڈانی اور امبانی کو کوڑیوں کے بھاؤ زمین، ٹیکس میں چھوٹ اور کروڑوں کے قرض معاف کیے جاتے ہیں، تو اسے وکاس (ترقی) کہا جاتا ہے۔"

کانگریس لیڈر نے سہولیات کے دونوں پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "غریبوں کو شرمندہ کیا جاتا ہے، جبکہ طاقتور لوگوں کی تعریفیں کی جاتی ہیں۔ میں مفت سہولیات کے بارے میں بات چیت کے لیے تیار ہوں، لیکن آئیے ایمانداری سے دونوں اطراف کا جائزہ لیں۔"

کیرالہ میں انتخابی ماحول کے دوران اپنی حکومت کی اسکیموں کا ذکرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کیرالہ کے عوام کو پانچ اہم گارنٹیوں کے ذریعے ایک مضبوط حفاظتی ڈھال فراہم کرنے جا رہا ہے۔ ان میں اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں میں تمام خواتین کے لیے مفت سفر، کالج جانے والی طالبات کے لیے 1000 روپے ماہانہ مالی امداد، فلاحی پنشن بڑھا کر 3000 روپے ماہانہ کرنا، اومن چانڈی کے نام پر ایک اسکیم کے تحت ہر خاندان کو 25 لاکھ روپے کا ہیلتھ انشورنس کور دینا اور نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے پانچ لاکھ روپے تک کا بلاسود قرض فراہم کرنا شامل ہے۔

 

Ads