ٹیم کا آخری گروپ میچ اتوار کی رات فلپائن کے خلاف ہے، جس کے بعد شیڈول کے مطابق انہیں ایران واپس روانہ ہونا ہے۔ تاہم، ایران میں ریاستی پالیسیوں کے حامی حلقوں کی جانب سے کھلاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ان کی حفاظت کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور آسٹریلیائی سماجی حلقوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان کھلاڑیوں کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر انہیں واپس نہ بھیجے۔
غیرملکی رپورٹ کے مطابق ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک پریزینٹر نے قومی خواتین فٹ بال ٹیم کو اس وقت 'جنگ کے وقت کے غدار' قرار دے دیا جب کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں جاری ایشین کپ کے اپنے پہلے میچ میں قومی ترانہ نہیں پڑھا تھا۔
ایران ایک ایسے وقت میں براعظمی ٹورنامنٹ کھیل رہا ہے جب وطنِ واپسی پر فوجی تنازع شدت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔
گزشتہ پیر کو جنوبی کوریا کے خلاف 0-3 سے شکست سے قبل گولڈ کوسٹ میں جب ایران کا قومی ترانہ بجایا گیا تو کھلاڑی خاموش کھڑی رہیں، تاہم تین دن بعد میزبان آسٹریلیا کے خلاف 0-4 سے شکست سے قبل انہوں نے ترانہ پڑھا اور اسے سلامی بھی پیش کی۔
اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کے پریزینٹر محمد رضا شہبازی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں کہا کہ کھلاڑیوں نے حب الوطنی کی کمی دکھائی اور ان کا یہ عمل 'بے غیرتی کی انتہا' ہے۔ پریزینٹر محمد رضا نے ویڈیو میں کہا، "میں صرف ایک بات کہوں گا: جنگ کے دوران غداروں کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا، "جنگ کے حالات میں ملک کے خلاف قدم اٹھانے والے کسی بھی شخص کے ساتھ زیادہ سختی سے نمٹنا ضروری ہے۔ جیسا کہ ہماری خواتین فٹ بال ٹیم کا قومی ترانہ نہ گانے کا معاملہ ہے... ان لوگوں کے ساتھ سختی ہونی چاہیے۔"
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایرانی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں اپنے مخصوص اندازِ احتجاج یا بیانات کی وجہ سے وطن واپسی پر قانونی کارروائیوں اور سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
