Masarrat
Masarrat Urdu

کونڈولیزا رائس کی ٹرمپ سے ایرانی معاملے کو حتمی طور پر ختم کرنے کی اپیل

  • 06 Mar 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 6 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران سے حتمی طور پر نمٹ لیں۔ انہوں نے ’’ آپریشن ایپک فیوری ‘‘ نام کی دلیرانہ فوجی کارروائی کی تعریف کی۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ فاکس نیوز کے پروگرام ’’ سپیشل رپورٹ ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رائس نے کہا کہ ایران کم از کم 47 سالوں سے امریکہ کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ لوگوں سے عراق کے بارے میں پوچھیں کہ وہاں ہمارے بہت سے نقصانات کی وجہ کیا تھی تو آپ کو ایسے تخمینے ملیں گے کہ ان میں سے 75 یا 80 فیصد نقصانات ایران میں بنے ہوئے سڑک کنارے نصب بموں کا نتیجہ تھے۔ 71 سالہ رائس کا خیال ہے کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد ایرانی حکومت کی فوجی جواب دینے کی صلاحیت کو مفلوج کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ ایران کو عملی طور پر ہمارے اور ہمارے اتحادیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے قابل نہ رہنے دیں تو یہ ایک ایسا ہدف ہے جو حاصل کرنے کے لائق ہے۔ میرے خیال میں وہ جو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ خطے میں ایران کو بطور فوجی قوت بے اثر کرنا ہے۔ یاد رہے رائس صدر جارج ڈبلیو بش کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران وزیر خارجہ رہیں اور وہ 11 ستمبر کے حملوں اور عراق جنگ کے دوران قومی سلامتی کی مشیر بھی تھیں۔

کونڈولیزا رائس نے نشاندہی کی ہے کہ ایرانی حکومت نے گزشتہ دہائیوں کے دوران مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں مسلح گروہوں کا ایک جال بنایا ہے جو تہران کے آلہ کار کے طور پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے ایران کی حدود سے باہر اثر و رسوخ کے لیے فوجی صلاحیت بھی تیار کی ہے جس میں حزب اللہ اور حماس شامل ہیں جنہیں وہ اسلحہ اور ساز و سامان فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا کہ یہ حکومت خطرہ نہیں تھی تاریخ کو نظر انداز کرنا ہے۔ یہ ایک طویل عرصے سے خطرہ رہا ہے۔ کونڈولیزا رائس نے 1979 کے ایران یرغمالی بحران اور 1983 کے بیروت دھماکے جیسے تاریخی واقعات کا حوالہ بھی دیا جس میں 241 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ انہوں نے ان حملوں کو امریکہ کے خلاف ایران کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی مثالیں قرار دیا۔

کونڈولیزا رائس نے مزید کہا میں نے خود سلامتی کونسل کی چار قراردادوں پر مذاکرات کیے جن میں ایران کو اس کے جوہری عزائم کی وجہ سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ فوجی آپریشن شروع ہونے سے پہلے واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا۔ اس دوران ایران یورینیم کی افزودگی کو اپنا ناقابلِ تنسیخ حق قرار دینے پر بضد تھا۔

اسرائیلی امریکی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ایران نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی اور امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی حملے کیے جن میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے جسے کونڈولیزا رائس نے ایک بڑی غلطی قرار دیا ہے۔ رائس نے ان رپورٹس کو بھی اہمیت نہیں دی جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ عراق میں باغی جنگجوؤں کو ایرانی حکومت کے خلاف زمینی حملوں کے لیے مسلح کر رہا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ ایرانی سرزمین کے اندر کردوں کی نقل و حرکت کے بارے میں گردش کرنے والی معلومات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کردوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے ان رپورٹس کے اصل معنی کے بارے میں ہمیں فیصلے کرنے میں محتاط رہنا چاہیے۔ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ ایران آبادیاتی لحاظ سے ایک پیچیدہ ملک ہے جس میں متعدد نسلی اقلیتیں شامل ہیں جنہیں تہران کے حکام کی جانب سے جبر اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کوئی یکساں معاشرہ نہیں ہے بلکہ 90 ملین سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور اس کا رقبہ ٹیکساس ریاست سے تقریباً دو گنا ہے۔ اس لیے وہاں کوئی بھی پیش رفت پیچیدہ ہوگی۔ رائس کا خیال ہے کہ موجودہ فوجی کشیدگی واقعات کے ایک سلسلے کا نتیجہ ہے۔ اس کی جڑیں سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف حماس کے حملوں میں پیوست ہیں۔ حماس کے اس حملے میں 46 امریکیوں سمیت 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کونڈولیزا رائس نے کہا کہ مجھے کافی حد تک یقین ہے کہ سات اکتوبر کو جو کچھ ہوا وہ ایرانی تربیت، اسلحے اور شاید منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ آپریشن "ایپک فیوری" کے آغاز سے قبل امریکہ نے ’’ مڈ نائٹ ہیمر ‘‘ نام کے مئی میں ایک سابق آپریشن کے تحت ایران کے اندر کئی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے یہ بھی کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایرانی جوہری اور فوجی صلاحیتوں کو بڑے پیمانے پر کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اسے ایک اہم مقصد حاصل کرنے کے لیے فیصلوں کے ایک سلسلے کے طور پر دیکھتی ہوں۔ یہ مقصد ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں سے نمٹنا ہے۔

Ads