واشنگٹن، 6 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ ایکسپوز‘‘ کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کے بعد انہیں ایران کے اگلے رہنما کے انتخاب میں ذاتی طور پر شامل ہونے کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ مرحوم ایرانی رہنما کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جانشین بننے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار ہیں لیکن خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ ہم ایسا شخص چاہتے ہیں جو ایران میں ہم آہنگی اور امن لائے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجھے تقرری کے عمل میں ایسے ہی شامل ہونا چاہیے جیسا میں نے وینزویلا میں ڈیلسی کے ساتھ کیا تھا۔
ٹرمپ نے ایرانی حکام کے حوالے سے بات جاری رکھی اور کہا کہ وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ علی خامنہ ای کا بیٹا ایک کمزور شخصیت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایران میں کسی ایسے نئے لیڈر کا اقتدار سنبھالنا قبول نہیں کریں گے جو خامنہ ای کی پالیسیوں کو جاری رکھے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اس سے پانچ سال کے اندر واشنگٹن اور تہران کے درمیان نئی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تہران میں حکام نئے مرشد کے نام کا اعلان کرنے میں تاخیر کر رہے ہیں۔ متعدد ایرانی سیاست دانوں کے بیانات سے معلوم ہور ہا ہے کہ یہ اعلان جلد ہو سکتا ہے۔ یاد رہے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور دیگر حکام نے اس بات کی تردید کی تھی کہ ایران میں امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا مقصد نظام کی تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مقصد صرف ایرانی میزائل صلاحیتوں، جوہری پروگرام اور بحری افواج کو کمزور کرنے تک محدود ہے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل علی خامنہ ای کے جانشین کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ جن زیادہ تر لوگوں کے بارے میں ہم سوچ رہے تھے، وہ مر چکے ہیں۔ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک ایسے سخت گیر عالم دین سمجھے جاتے ہیں جن کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ علی خامنہ ای نے اب تک کسی سرکاری حکومتی عہدے پر کام نہیں کیا ہے۔
