Masarrat
Masarrat Urdu

خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کرتے ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

  • 02 Mar 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 2 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ تہران خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کے لیے تیار ہے۔

عمان کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی نے اپنے ملک کا امن کے لیے موقف پیش کیا اور کہا کہ ان کے ملک پر اسرائیلی اور امریکی حملے نے خطے میں تناؤ اور خوف کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی فریق کسی بھی ایسی سنجیدہ کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے جو کشیدگی کے خاتمے اور استحکام کی واپسی میں مددگار ہو۔

 

بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے ایران کا امن پسند موقف منتقل کیا اور کہا کہ ان کے ملک پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ خطے میں ہیجان اور خوف کی صورتحال سنگین ہونے کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کشیدگی روکنے اور استحکام کی طرف واپسی کے لیے ہر سنجیدہ کوشش کے لیے کھلا ہے۔ واضح رہے سلطنتِ عمان امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔

اس تناظر میں عمانی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کے دوران جنگ بندی کی اپیل کی۔ عمان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ البوسعیدی نے جاری تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنے اور فریقین کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کے لیے جنگ بندی، مکالمے اور مذاکرات کی طرف واپسی کی دعوت جاری رکھنے کے عمانی عزم کی تصدیق کی۔ البوسعیدی نے ایرانی فریق سے صبر و تحمل سے کام لینے اور ہر ایسے اقدام سے بچنے کی اپیل کی جو حسنِ جوار کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب تہران، ایران پر ہونے والے اس امریکی اور اسرائیلی حملے کے جواب میں خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر حکام جاں بحق ہوگئے تھے۔ ایک اور تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو امریکہ اور اسرائیل کے شدید حملوں کا جواب دینے سے باز رہنے کی تنبیہ کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کے ملک کے دفاع کے حق کی کوئی حد نہیں ہے۔

عباس عراقچی نے ’’ اے بی سی نیوز ‘‘ کو بتایا کہ ہمارے دفاع کے حق سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہم ہر قیمت پر اپنا دفاع کریں گے اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے دفاع کی کوئی حد مقرر نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو امریکہ کر رہا ہے وہ جارحیت ہے اور جو ہم کر رہے ہیں وہ دفاعِ خود اختیاری ہے۔ ان دونوں چیزوں میں بہت بڑا فرق ہے۔

Ads