ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا زمبابوے کا فیصلہ انتہائی غلط ثابت ہوا۔ ان کی اننگز پاور پلے میں ہی بکھر گئی اور نیوزی لینڈ کے منظم اٹیک نے انہیں بے بس کر دیا۔ جیس کیر نے تیسرے اوور میں کیلس ندھلووو کو آؤٹ کر کے پہلی کامیابی دلائی۔ اگلی ہی گیند پر موڈیسٹر موپاچیکوا رن آؤٹ ہو گئیں، جو ایک ایسی بڑی غلطی تھی جس سے ٹیم کے دباؤ کا اندازہ ہوتا تھا۔ صرف دو رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد اننگز کبھی سنبھل نہ سکی۔
چوتھے اوور میں نینسی پٹیل نے تباہی مچاتے ہوئے بیلوڈ بیزا کو آؤٹ کیا، اور جب آٹھواں اوور ختم ہوا تو زمبابوے کا اسکور کارڈ 10 رنز پر 7 وکٹیں تھا، جو سیریز کی یکطرفہ کہانی بیان کر رہا تھا۔
زمبابوے کی جانب سے واحد مزاحمت نچلے درجے کے بلے بازوں نے دکھائی۔ ایڈیل زیمونو نے 20 رنز بنائے اور آڈرے مازویشیا 20 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہیں، دونوں نے آٹھویں وکٹ کے لیے 52 گیندوں پر 42 رنز کی اہم شراکت داری قائم کی۔ اس شراکت کی بدولت زمبابوے نے پورے 20 اوورز کھیلے اور اپنے اسکور کارڈ کو بدترین ذلت سے بچایا، لیکن 9 وکٹوں پر 64 رنز کا مجموعہ حریف ٹیم کے لیے کوئی چیلنج نہ تھا۔
ہدف کا تعاقب نیوزی لینڈ کے لیے محض ایک رسمی مقابلہ تھا۔ ازابیلا گیج، جنہوں نے گزشتہ دو میچوں میں ناٹ آوٹ 66 اور 85 رنز بنائے تھے، اس بار اپنی نصف سنچری تو مکمل نہ کر سکیں لیکن 20 گیندوں پر ان کے ناٹ آؤٹ 38 رنز جیت کے لیے کافی تھے۔ ان کی اوپننگ پارٹنر ایزی شارپ نے 14 گیندوں پر 18 رنز بنائے اور ہدف صرف 5.4 اوورز میں پورا ہو گیا۔
مختصر اسکور:
زمبابوے 20 اوورز میں 64/9 (نینسی پٹیل 3-8، جیس کیر 2-8)
نیوزی لینڈ 5.4 اوورز میں 65/0 (ازابیلا گیج *38)
نیوزی لینڈ 10 وکٹوں سے کامیاب۔
