خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بحری خطرات میں اضافے کے پیش نظر تقریباً 150 تیل بردار جہاز خلیج کے کھلے آبی حدود میں رکے ہوئے ہیں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے سے احتیاط برت رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک دو تیل بردار جہازوں کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ صورتحال ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی جہاز آبنائے سے باہر جمع ہو گئے ہیں، جبکہ بعض ٹینکرز نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا یا واپسی کا رخ اختیار کیا۔
کچھ جہازوں کے عملے نے ایرانی بحریہ سے منسوب ایک ریڈیو پیغام سننے کی بھی اطلاع دی ہے جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی کا اعلان کیا گیا، تاہم تہران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
اس سے قبل امریکہ نے خطے میں جہاز رانی کے حوالے سے انتباہ جاری کرتے ہوئے جہازوں کو اپنی فوجی تنصیبات سے کم از کم 30 ناٹیکل میل دور رہنے کی ہدایت دی تھی۔
دریں اثنا، بلومبرگ کی جانب سے حاصل کیے گئے شپنگ ڈیٹا کے مطابق انتباہات کے باوجود کچھ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے رہے، جن میں سات جہاز اس راستے سے باہر نکلے جبکہ چھ دوسرے اس میں داخل ہوئے۔
