الجزیرہ ٹی وی کے مطابق اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر کیا جانے والا یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ آپریشن ہے جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے خطرات کی وجہ سے حملے کیے۔
اس کے علاوہ امریکی اہلکار نے الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملہ امریکا اسرائیل کا مشترکہ آپریشن ہے، ایران میں کارروائی کی منصوبہ بندی بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طورپر کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے تہران میں تین مختلف مقامات پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں شہر کے متعدد علاقوں میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔
رپورٹ کے مطابق تہران کی شاہراہِ یونیورسٹی پر کئی میزائل گرے ہیں، تاہم جانی و مالی نقصان کی تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئی ہے۔
ایران پر حملے کے فوراً بعد اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حفاظتی اقدامات کے تحت ملک کی فضائی حدود کو ہر قسم کی پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
اس صورتحال کے باعث بن گورین ایئرپورٹ پر آنے والی تمام پروازوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے اور مسافروں کو ایئرپورٹ نہ آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خطے میں پیدا ہونے والی اس سنگین صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب ایران کے ممکنہ ردِعمل پر لگی ہوئی ہیں۔
