اقوام متحدہ، 27 فروری (مسرت ڈاٹ کام) اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے ایک باضابطہ خط میں کہا ہے کہ جوہری ایجنسی کی سخت ترین نگرانی کے باوجود ایران کے پرامن جوہری پروگرام پر لگائے گئے الزامات قانونی طور پر بے بنیاد اور سیاسی اہداف پر مبنی ہیں۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں تعیینات ایران کے سفیر نے ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں حالیہ الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور یہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت مکمل طور پر جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط میں کہا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں خاص طور پر فرانس کے نمائندے کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر لگائے گئے اعتراضات قانونی طور پر بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف پرامن توانائی کے حصول اور سائنسی ترقی کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور اسے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی انتہائی سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
ایران نے اپنے خط میں مزید کہا کہ یہ افسوسناک اور متضاد صورتحال ہے کہ فرانس ایک طرف جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کی حمایت کا دعوی کرتا ہے لیکن دوسری طرف جوہری تخفیف اسلحہ کے حوالے سے اپنے بین الاقوامی فرائض، خاص طور پر ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے کے آرٹیکل چھ کے تحت عالمی جوہری تخفیف کے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ایرانی سفیر نے خط میں کہا کہ فرانس نے بعض دیگر ممالک کے غیر اعلانیہ جوہری پروگراموں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور خاص طور پر اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر عالمی دباؤ ڈالنے میں کردار ادا نہیں کیا۔ اس طرح کے دوہرے معیار سے عالمی سلامتی کا نظام کمزور اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
خط میں اس بات پر بھی سخت احتجاج کیا گیا کہ ماضی میں اسرائیلی فوج اور بعض دیگر قوتوں کی جانب سے ایران کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حفاظتی نظام کے تحت آنے والی جوہری تنصیبات پر حملوں کہ عالمی سطح پر مناسب مذمت نہیں کی گئی۔
ایران نے اسی خط میں امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین جنگ سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کر دیا جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایران نے روس کو ڈرون اور متعلقہ ٹیکنالوجی فراہم کی ہے۔ ایران نے یوکرین جنگ کے آغاز سے ہی جنگ بندی، مذاکرات اور پرامن سیاسی حل کی حمایت کی ہے اور تہران کی پالیسی اصولی اور غیر تبدیل شدہ ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اس طرح کی کوئی پابندی موجود نہیں تھی، تاہم اس کے باوجود ایران نے کسی بھی فریق کو جنگی ہتھیار فراہم نہیں کیے۔ ایران نے کہا کہ بعض مغربی ممالک یوکرین کو جدید ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی کے ذریعے تنازع کو طول دینے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران پرامن جوہری توانائی کے حصول کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور بین الاقوامی معائنہ اور شفافیت کے نظام کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا تاکہ اعتماد سازی کو فروغ دیا جاسکے۔
