پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے خلاف آپریشن ’غضبُ الحق‘ شروع کیا، فضائی حملے کیے
نئی دہلی، 27 فروری (مسرت ڈاٹ کام)پاکستان نے مبینہ طور پر سرحد پار سے "بلا اشتعال فائرنگ" کے بعد افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضبُ الحق شروع کر دیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان کی اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں۔
ان حملوں میں کابل میں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز تباہ کیے گئے، جبکہ قندھار میں ایک کور ہیڈکوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا۔
نشریاتی ادارے نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہاکہ"پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔"
پاکستان نے جمعہ کے روز افغانستان کے کابل اور قندھار پر بمباری کی، جس کے چند گھنٹے بعد افغان فورسز نے پاکستانی سرحدی اہلکاروں پر حملہ کیا۔ طالبان حکومت کے مطابق یہ کارروائی اس ہفتے کے اوائل میں ہونے والے مہلک فضائی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کی افواج نے 133 افغان جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے، جبکہ کابل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی میں 55 پاکستانی فوجی مارے گئے ہیں۔
افغان حکام کے مطابق طورخم سرحدی گزرگاہ کے قریب، پاکستان سے واپس آنے والے افراد کے ایک کیمپ میں متعدد شہری زخمی ہوئے ہیں۔
حملے کا نشانہ بننے والے پاکستانی سرحدی صوبے خیبر پختونخوا کے گورنر، فیصل کریم کنڈی نے اسپوٹنک کو بتایا کہ اسلام آباد افغانستان کو فیصلہ کن جواب دے گا اور اپنی سلامتی کو یقینی بنائے گا۔
انہوں نے کہاکہ"ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے ممکنہ ردعمل کی نوعیت کا جائزہ لے رہے ہیں، جو ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔ ماضی کے بحرانوں کی طرح اس بار بین الاقوامی برادری پاکستان سے تحمل کا مطالبہ نہ کرے۔ پاکستان کی خودمختاری ہماری سرخ لکیر ہے۔ پاکستان کی سلامتی پر کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا جو ملک کی سلامتی اور وقار کو یقینی بنائے گا۔"