عمانی وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے منگل کے روز یہ اطلاع دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کی طرف مثبت قدم ثابت ہوگا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا '' امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات اب جمعرات کے روز جنیوا میں مقرر ہیں، جہاں معاہدے کو حتمی شکل دینے کی طرف مزید سنگ میل طے ہونے کی امید ہے۔
مذاکرات کا پہلا اور دوسرا دور 6 فروری کو مسقط اور 17 فروری کو جنیوا میں ہوا تھا۔ اگرچہ کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکا تاہم دونوں فریقوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
یہ بات چیت بڑھتی ہوئی جنگی بیان بازی اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہوئی ہے، جس میں ایک طرف امریکہ نے علاقے میں جنگی جہاز تعینات کیے ہيں تو دوسری طرف تہران نے خبردار کیا کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ پورے خطے کو جنگ میں دھکیل دے گا۔
عمان کی ثالثی میں مذاکرات کی قیادت ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کی۔ دونوں فریقوں نے مبینہ طور پر ممکنہ معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق کیا، حالانکہ یورینیم کی افزودگی اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے بڑے مسائل بھی حل نہیں ہوئے ہيں۔
عمانی وزیر خارجہ نے 17 فروری کو دوسرے دور کے بعد کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات مشترکہ اہداف اور متعلقہ تکنیکی مسائل کی نشاندہی کی جانب ''اچھی پیش رفت'' کے ساتھ ختم ہوئے ہیں۔ اس میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے تعاون کی بہت ستائش کی گئی۔
