تہران، 23 فروری (مسرت ڈاٹ کام) رہبر انقلاب کے بین الاقوامی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ ایران نے تاریخ میں کبھی جارحیت نہیں کی بلکہ صرف دفاع میں ہتھیار اٹھائے ہیں۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب کے بین الاقوامی امور کے مشیر علیاکبر ولایتی نے مغربی تہذیب کے زوال اور ایران کی اسلامی تہذیب کے دوبارہ عروج کے موضوع پر اپنے ایک مضمون میں اپسٹین اسکینڈل کو مغرب کی نمائشی تہذیب کے خاتمے کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یورپ اور بعد ازاں امریکا، یا مجموعی طور پر مغرب، ہمیشہ خود کو تہذیب و ثقافت کا علمبردار اور انسانی حقوق، جمہوریت اور سیاسی اخلاقیات کا بانی قرار دیتا رہا ہے۔ تاہم گزشتہ چند صدیوں کی خونریز جنگیں جن کے محرک نام نہاد مہذب یورپی طاقتیں تھیں، اور دوسری جانب غزہ میں مسلمانوں، بالخصوص بے گناہ خواتین اور بچوں کا قتل عام، نیز امریکی سیاست دانوں اور ان کے مغربی اتحادیوں کے اپسٹین کیس میں کردار نے مغرب کو اندرون و بیرون ملک عوامی سطح پر بدنام کر دیا ہے۔ ان کے بقول اسلامی ممالک میں اس نوعیت کے افسوسناک واقعات کبھی پیش نہیں آئے۔
دو تہذیبوں، مشرق اور مغرب، کے تقابلی جائزے میں انہوں نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک معاصر مغربی محقق کے مطابق ایرانیوں نے 2500 سال قبل کوروش کے دور میں ایک وسیع ریاست کی بنیاد رکھی جو امن اور کم سے کم خونریزی پر قائم تھی، اور اس کے بعد بھی ایرانی قوم ہمیشہ انصاف پسند اور امن کی خواہاں رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانیوں نے صرف اس وقت ہتھیار اٹھائے جب بیرونی طاقتوں کی جانب سے ان پر جارحیت کی گئی۔
ولایتی نے کہا کہ حالیہ صدیوں کی تاریخ واضح کرتی ہے کہ مغربی تہذیب، انسانی حقوق اور اخلاقیات کے دعووں کے باوجود، تشدد، استحصال اور جنگوں پر مبنی رہی ہے۔ دنیا کی استعماری طاقتوں کے درمیان تقسیم سے لے کر عالمی جنگوں میں لاکھوں ہلاکتوں تک، بوسنیا میں نسل کشی سے لے کر غزہ میں بے گناہ شہریوں کے قتل عام تک، جرائم کا ایک تسلسل دکھائی دیتا ہے جو آج بھی یوکرین جنگ کی صورت میں جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی ایرانی تہذیب، جو صلح پسندی اور عدل گستری کی قدیم روایت رکھتی ہے، کوروش کے زمانے سے آج تک صرف اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھاتی آئی ہے اور ہمیشہ اقوام کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی حامی رہی ہے۔ ان کے مطابق انقلاب اسلامی کے ظہور کے ساتھ ہی اسلامی تہذیب کی تعمیر نو اور احیا کا عمل شروع ہوا، اور آج جب اپسٹین کیس سے لے کر غزہ میں نسل کشی کی کھلی حمایت تک مغرب کی اخلاقی اور سیاسی رسوائیاں عالمی رائے عامہ کو بیدار کر چکی ہیں تو وقت آ گیا ہے کہ تہذیبوں کے حقیقی مقام کا ازسرنو تعین کیا جائے اور دنیا جان لے کہ مستقبل اسی تہذیب کا ہے جو انصاف، امن اور انسانی وقار کو نعروں میں نہیں بلکہ عملی طور پر نافذ کرتی ہے۔
