وزیر اعظم نیتن یاہو نے رسمی میٹنگ کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے اسرائیل-ہند تعلقات کو "تاریخی" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے دورے سے اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی طرف اہم قدم کی نشاندہی ہوگی۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیر اعظم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسہ سے خطاب کریں گے، یروشلم میں ایک اختراعاتی پروگرام میں حصہ لیں گے اور ہولوکاسٹ کی یادگار کا دورہ کریں گے۔
مسٹر نیتن یاہو نے اس سلسلے بات کرتے ہوئے حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان متواتر رابطے اور باہمی دوروں کا ذکر کیا۔
نیتن یاہو نے دونوں حکومتوں اور قومی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تال میل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "تعلقات کے تانے بانے پختہ ہو گئے ہیں، اور وہ انہيں مزید مضبوط بنانے کے واسطے یہاں آ رہے ہیں۔"
نیتن یاہو نے کہا کہ اس دورے میں مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی سمیت ہائی ٹیک کے شعبوں میں تعاون کو بہتر کرنے پر توجہ مرکوز ہوگی۔ نیتن یاہو نے کہا، ''یہی مستقبل نہیں، یہ حال ہے، اسرائیل کا مقصد ان شعبوں میں دنیا کے سرکردہ ممالک میں شامل ہونا ہے۔''
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک نیٹ ورک بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جسے انہوں نے "ہیکساگون آف الائنس" قرار دیا ہے، جس میں ہندوستان، عرب ممالک، افریقی ممالک، بحیرہ روم کے شراکت دار جیسے یونان اور قبرص اور دیگر ایشیائی ممالک شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد علاقائی چیلنجوں پر مشترکہ نقطہ نظر کے حامل ممالک کا گٹھ جوڑ بنانا ہے، جو ان کے بقول مشرق وسطیٰ میں بنیاد پرست شیعہ اور سنی محاذوں کا مقابلہ کرے گا۔
انہوں نے کہا، "اس کا مقصد ایسے ممالک کا اتحاد بنانا ہے جو بنیاد پرست اتحادوں کے برعکس حقیقت، چیلنجوں اور اہداف پر یکساں نقطہ نظر رکھتے ہيں۔"
انہوں نے کہا اس اتحاد میں شامل تمام ممالک منفرد نقطہ نظر رکھتے ہیں، اور ہمارے درمیان تعاون بہت اچھے پھل دے سکتا ہے اور یقیناً ہماری طاقت اور ہمارے مستقبل کو بھی یقینی بنا سکتا ہے۔"
مسٹر نریندر مودی بدھ کی سہ پہر 4:30 بجے اسرائیلی کنیسہ سے خطاب کرنے والے ہیں، اور دونوں رہنما ہولوکاسٹ کی یادگار کا دورہ کریں گے اور یروشلم میں خصوصی اختراعاتی تقریب میں شرکت کریں گے۔
