Masarrat
Masarrat Urdu

پچائی نے وشاکھاپٹنم میں اے آئی ہب کی تعمیر کے لیے تقریباً 1.25 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا

Thumb

نئی دہلی، 19 فروری (مسرت ڈاٹ کام) گوگل اور الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سندر پچائی نے اے آئی امپیکٹ کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ گوگل آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم شہر میں ایک اے آئی ہب کے قیام کے لیے 15 بلین ڈالر (تقریباً 1.25 لاکھ کروڑ روپے) کی سرمایہ کاری کرے گا۔

سندر پچائی نے کہاکہ "مجھے یاد ہے کہ یہ امکانات سے بھرا ایک پرسکون اور سادہ ساحلی شہر ہے۔ اب، گوگل ہندوستان میں ہمارے 15 بلین امریکی ڈالر کے انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے طور پر وہاں ایک مکمل صلاحیت والا اے آئی ہب قائم کر رہا ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ جب یہ ہب تیار ہو جائے گا تو اس میں گیگاواٹ پیمانے کی کمپیوٹنگ اور ایک نیا بین الاقوامی سب-سی کیبل گیٹ وے ہوگا، جو پورے ہندوستان کے عوام اور کاروبار کے لیے روزگار اور جدید ترین اے آئی لے کر آئے گا۔

پچائی نے کہا کہ وہ ہندوستان میں "تبدیلی کی رفتار سے متاثر" ہیں اور عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام میں ملک کے بڑھتے ہوئے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے یاد کیا کہ کس طرح ان کے والد ریگوناتھا پچائی نے کہا تھا کہ وہ تب زیادہ متاثر ہوں گے جب بغیر ڈرائیور کی گاڑیاں ہندوستان کی مصروف سڑکوں پر چل سکیں گی۔

انہوں نے حکومت ہند کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے گزشتہ سال لاکھوں کسانوں کو اے آئی پر مبنی پیش گوئی فراہم کی، جو جزوی طور پر گوگل کے "نیورل-جی سی ایم" ماڈل کے ذریعے ممکن ہوا۔ یہ ایک جدید موسمی پیش گوئی ماڈل ہے جو روایتی موسمیاتی ماڈل اور مشین لرننگ کو ملا کر موسم کی درست پیش گوئی کرتا ہے۔

پچائی نے مزید کہا کہ گوگل سب-سی فائبر آپٹک کیبلز کا ایک وسیع نیٹ ورک بنا رہا ہے، جس میں "امریکہ-انڈیا کنیکٹ" منصوبے کے تحت امریکہ اور ہندوستان کے درمیان چار نئے سسٹم بھی شامل ہیں۔

گوگل کے سی ای او نے کہا کہ "اے آئی بلاشبہ افرادی قوت کو نئی شکل دے گا، کچھ کرداروں کو خودکار بنائے گا، دوسروں کو ترقی دے گا اور بالکل نئے کیریئر بنائے گا۔ بیس سال پہلے، ایک پیشہ ور یوٹیوب کری ایٹر کا تصور موجود نہیں تھا۔ آج، دنیا بھر میں ایسے لاکھوں لوگ ہیں۔"

مسٹر پچائی نے مصنوعی ذہانت کو اس عہد کی سب سے فیصلہ کن تکنیکی چھلانگ قرار دیا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ضروری نہیں کہ اس کے صرف فائدے ہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ہماری زندگی کا سب سے بڑا شفٹ ہے۔ ہم انتہائی ترقی اور نئی دریافتوں کے دہانے پر ہیں جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کو پرانی کمیوں کو دور کر کے آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ لیکن وہ نتیجہ نہ تو یقینی ہے اور نہ ہی خودکار۔"

گوگل کے سی ای او نے کہا کہ "یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب انسانیت بڑے خواب دیکھتی ہے تو کیا کچھ ممکن ہے اور اے آئی سے بڑا خواب مجھے کسی اور ٹیکنالوجی نے نہیں دکھایا۔"

مسٹر پچائی نے اے آئی کے تئیں امید کا اظہار کرتے ہوئے سائنسی دریافت کو آگے بڑھانے اور عالمی سطح پر زندگی کو بہتر بنانے میں اس کے رول کی طرف اشارہ کیا۔

گوگل کے سی ای او نے گوگل ڈیپ مائنڈ کے تیار کردہ اے آئی سسٹم 'الفا فولڈ' کا ذکر کیا، جس نے پروٹین اسٹرکچر کی پیشن گوئی کا مسئلہ حل کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اس کامیابی نے، جسے ابھی نوبل انعام ملا ہے، دہائیوں کی تحقیق کو ایک ڈیٹا بیس میں سمیٹ دیا ہے، جو اب دنیا کے لیے کھلا ہے۔" انہوں نے کہا کہ اس ڈیٹا بیس کا استعمال اب 190 ممالک کے تین ملین سے زائد محققین ملیریا کی ویکسین تیار کرنے اور اینٹی بائیوٹک مزاحمت سے لڑنے کے لیے کر رہے ہیں۔

مسٹر پچائی نے کہا کہ ڈی این اے بیماریوں کی شناخت سے لے کر سائنسی تحقیق میں اے آئی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ "ہم سائنسی دنیا میں اسی طرح کے جرات مندانہ سوالات پوچھ رہے ہیں۔ ہمیں ان شعبوں میں مسائل سے نمٹنے میں یکساں طور پر جرات مند ہونا چاہیے جہاں ٹیکنالوجی تک رسائی کی کمی رہی ہے۔ اے آئی سے بڑا خواب مجھے کسی اور ٹیکنالوجی نے نہیں دکھایا۔"

وزیر اعظم نریندر مودی نے مسٹر پچائی کے ساتھ ساتھ اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین، اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو امودئی، میٹا کے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ اور دیگر عالمی تکنیکی ماہرین کے ساتھ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں ملاقات کی۔

واضح رہے کہ 'انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ' 20 فروری تک جاری رہے گی اور یہ تین موضوعات، 'پیپل، پلینٹ اور پروگریس' پر مبنی ہے۔

 
 
 

Ads