میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بات فلوریڈا میں دسمبر کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں کہی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی حمایت کی جا سکتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس ملاقات میں اسرائیلی قیادت کو یہ پیغام بھی دیا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے نتائج کا انتظار کرے گا، تاہم اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جائے گا۔
امر ملحوظ رہے کہ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے حوالے سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تعلقات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ تاہم اس حوالے سے امریکی انتظامیہ یا اسرائیلی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
