انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے تک پہنچنا جو بین الاقوامی ایجنسی کو مطمئن کرے، مکمل طور پر ممکن ہے لیکن بہت مشکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دوبارہ کام کرنے اور ایک طرح کا مکالمہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ یہ مثالی نہیں ہے، پیچیدہ ہے اور انتہائی مشکل ہے لیکن یہ موجود ہے۔ میرے خیال میں اس وقت بڑا مسئلہ یہ جاننا ہے کہ مستقبل کے لیے ان مراحل کا تعین کیسے کیا جائے ۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ کس چیز کی تصدیق کرنی ہے اور اسے کیسے کرنا ہے۔
رافیل گروسی کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران نے 6 فروری کو سلطنت عمان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد بات چیت جاری رکھنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کو اس صورت میں انتہائی تکلیف دہ نتائج کی دھمکی دی تھی اگر اس نے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں معاہدے کو قبول نہ کیا۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور ایران کے درمیان تعلقات بڑھتی ہوئی کشیدگی کا شکار ہیں۔ خاص طور پر جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد تہران کی جانب سے تعاون معطل کرنے کے بعد یہ کشیدگی بڑھی ہے۔ ان حملوں میں ایران کے نطنز، فورڈو اور اصفہان جیسے اہم مقامات کے معائنے میں رکاوٹ ڈالی ہے۔
ایجنسی ایران پر یورینیم کی افزودگی بڑھانے اور شفافیت کی کمی کا الزام لگاتی ہے جبکہ تہران جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے اپنے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔ واضح رہے آخری بار جب ایجنسی نے ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تصدیق کی تھی وہ کم از کم 8 ماہ پہلے کی بات ہے۔ ایجنسی کے رہنما خطوط بتاتے ہیں کہ یہ کام ماہانہ بنیادوں پر کیا جانا چاہیے۔
