صنعا، 14 فروری (مسرت ڈاٹ کام) انصار اللہ کے سربراہ بدرالدین الحوثی نے کہا کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے سامنے مضبوط موقف کے ساتھ کھڑا ہے اور حالیہ واقعات کے بعد عوامی حمایت نے اس استقامت کو تقویت دی ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی تحریک انصار اللہ کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے ماہ مبارک رمضان کی آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے مقابل ایک مضبوط اور ثابت قدم رکاوٹ کے طور پر کھڑا ہے، اور حالیہ واقعات کے بعد میدان میں ایرانی عوام کی فعال موجودگی نے اس مؤقف کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عرب اور امت مسلمہ اس وقت مختلف چیلنجز اور مشکلات سے دوچار ہیں، جو افسوسناک صورت حال کی عکاسی کرتی ہے۔ اللہ تعالی نے امت کی اصلاح کے لیے جو نعمتیں عطا کی ہیں، اگر ان سے صحیح استفادہ کیا جائے تو اسلامی دنیا کی حالت بدلی جاسکتی ہے، مگر بعض مسلمان خواہشات نفس اور الہی تعلیمات سے متصادم ثقافتوں کے زیر اثر عمل کرتے ہوئے ہدایت کے اثرات سے محروم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے رمضان کو جہاد اور عظیم کامیابیوں کا مہینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ماہ کی برکات کے اثرات قیامت تک باقی رہتے ہیں۔
الحوثی نے خبردار کیا کہ بہت سے لوگ ان خطرات کو نظر انداز کر رہے ہیں جو امت کو درپیش ہیں، جبکہ ذمہ داریوں سے غفلت اور حقائق سے لاعلمی کی وجہ سے سنگین نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امت کو ایسے دشمنوں کا سامنا ہے جن میں یہودی اور صہیونی عناصر شامل ہیں، جو امریکی، اسرائیلی اور برطانوی حمایت سے سرگرم ہیں۔ خطے کی صورت حال ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور امت پر یکطرفہ بالادستی مسلط کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل فلسطین، لبنان اور شام میں مختلف نوعیت کے جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے اور خطے میں جاری پیش رفت اسی بالادستی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ بعض حلقے غزہ اور لبنان کے مجاہدین کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، جبکہ اسرائیل مسجد اقصی پر مسلسل حملوں اور فلسطینیوں کی بے دخلی کی پالیسی پر گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل مغربی کنارے کو اپنے ساتھ ضم کرنے اور فلسطین کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اوسلو سمیت تمام معاہدوں کو کھلے عام نظر انداز کر رہا ہے۔
انصار اللہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ لبنان میں اسرائیل حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جبکہ خود اپنی عسکری طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔ اسرائیلی جارحیت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ زرعی زمینوں پر زہریلے کیمیائی مواد کا چھڑکاؤ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کے تعاون سے خطے کے ممالک پر تسلط چاہتا ہے اور اس کی توجہ خاص طور پر اسلامی جمہوری ایران پر مرکوز ہے کیونکہ وہ اسے اپنی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ ایران کا مؤقف مضبوط اور ثابت قدم ہے اور ایرانی عوام کی حالیہ ریلیوں میں شرکت نے اس استقامت کو مزید تقویت دی ہے۔
