ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز استعفے کے مطالبات مسترد کر دیے، اسکاٹ لینڈ میں ان کی اپنی ہی جماعت کے رہنما کی جانب سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے، انھوں نے عزم کیا ہے کہ وہ اپنے منصب پر برقرار رہیں گے۔
کیئر اسٹارمر کی جانب سے پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں سفیر مقرر کرنے کے فیصلے نے برطانوی حکومت کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے، ایک ایسے شخص کی تقرری جس کے امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے قریبی تعلقات نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں، پر وزیر اعظم دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے اس معاملے کا رخ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ کچھ استعفوں نے اس دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے، مواصلاتی امور کے سربراہ ٹم ایلن نے بھی اسٹارمر کے قریبی ترین معاون مورگن میک سوینی کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ میک سوینی نے کہا کہ انھوں نے مینڈلسن کو امریکہ میں برطانیہ کے اعلیٰ ترین سفارتی منصب پر تعینات کرنے کے مشورے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ کیئر اسٹارمر کو اپنے اعلیٰ وزرا اور قیادت کے ممکنہ حریفوں میں سے بعض کی جانب سے حمایت کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمان کے اجلاس میں انہیں مثبت پذیرائی ملی، جس سے ظاہر ہوا کہ انھیں فوری طور پر ہٹانے کی کوئی کوشش متوقع نہیں۔
اسٹارمر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ''اپنے ملک کو بدلنے کا موقع حاصل کرنے کے لیے اتنی جدوجہد کے بعد، میں اپنے مینڈیٹ اور اپنے ملک کے لیے ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوں اور نہ ہی ہمیں افراتفری میں دھکیلنے کے لیے، جیسا کہ دوسروں نے کیا۔''
