بی بی سی فارس کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر صحت نے تصدیق کردی ہے کہ پرتشدد مظاہروں میں سو افراد مارے گئے ہیں، دوسری جانب ایرانی میڈیکل سسٹم آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ جنوری میں مظاہروں میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 25 ہزار افراد زخمی ہوئے تھے۔
تاہم، ٹیچرز یونینز کی رابطہ کونسل نے بھی 200 طلبہ کے ناموں کی فہرست شائع کی ہے جن کے متعلق ان کا دعویٰ ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران مارے گئے ہیں اور میڈیکل یونیورسٹیوں کے 8 سے 9 طلبہ اس وقت حراست میں ہیں۔
رواں سال کے آغاز میں ایران میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار انسانی حقوق کے گروپوں کی رپورٹ کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔
ایران میں انٹرنیٹ پر پابندیوں اور معلومات تک براہ راست رسائی کی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد حکومتی اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
