جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ ڈاکٹر گیتانجلی انگمو کی طرف سے دائر کردہ حبس بیجا کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جس میں ان کے شوہر سونم وانگچک کی حراست کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے کہا کہ وانگچک کی حالت مستحکم ہے اور ایمس جودھ پور میں انھیں بہترین علاج مل رہا ہے۔ حکومت کے مطابق اگر وہ لداخ میں رہتے تو ایسا علاج میسر نہ ہوتا۔
جب بنچ نےپوچھا کیا کہ کیا مرکزی حکومت نے وانگچک کی صحت سے متعلق تشویش کے بارے میں ان کی مسلسل نظربندی کا تجزیہ کیا ہے تو جسٹس کمار نے پوچھا، "کیا ہوا؟ کوئی پیش رفت ؟ کیا یہ ہوا ہے؟" اے ایس جی نے صاف جواب دیا، ''نہیں، کچھ نہیں کیا گیا۔''
عدالت جواب سے غیر مطمئن نظر آئی۔ جسٹس ورالے نے یاد دلایا کہ پہلےایک موقع پر بنچ نے تجویز دی تھی کہ مرکزی حکومت وانگچک کی حراست پر نظر ثانی کرے، خاص طور پر چونکہ وہ پہلے ہی تقریباً پانچ ماہ حراست میں گزار چکے ہیں۔
4 فروری کو بنچ نے خاص طور پر اے ایس جی سے کہا تھا کہ وہ نظر بندی کے ممکنہ جائزے کے بارے میں ہدایات طلب کریں۔
عرضی گزار کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے پہلے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں ایک ماہر ڈاکٹر سے وانگچک کا معائنہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جس میں پیٹ میں درد کی اکثر شکایات کا حوالہ دیا گیا تھا، ممکنہ طور پر آلودہ پانی کی وجہ سے۔ عدالت کی ہدایات کے مطابق وانگچک کا ایمس جودھپور میں معائنہ کیا گیا اورمیڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔
رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اے ایس جی نٹراج نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وانگچک کی صحت "بالکل اچھی" ہے اور انہیں مناسب علاج مل رہا ہے۔
تاہم، جسٹس ورالے نے کہا کہ صحتی مسائل کا وجود تنازعہ میں نہیں ہے اور علاج عدالت کی مداخلت کے بعد ہی کیا جا رہا ہے۔
جب اے ایس جی نے عرض کیا کہ راجستھان میں علاج کی سہولیات لداخ میں دستیاب سہولیات سے بہتر ہیں تو جسٹس ورالے نے جواب دیا کہ ایسی دلیل حبس بیجا کی درخواست کے تناظر میں نہیں دی جا سکتی۔
جسٹس کمار نے مرکز کو یہ بھی یاد دلایا کہ حبس بیجا کے معاملات میں عجلت اور حساسیت کی ضرورت ہوتی ہے اور بتایا کہ حکومت کی درخواست پر پہلے ہی سماعت ملتوی کی چکی ہے۔
اگرچہ اے ایس جی نے مزید وقت طلب کیا۔ لیکن عدالت بدھ کو اسے لسٹیڈ کرنے پر راضی ہوگئی اور یہ واضح کردیا مزید کوئی التوا نہیں دی جائے گی۔
این ایس اے کے تحت وانگچک کی نظربندی کو چیلنج کرنے والی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
