تیسرے دن کے پہلے اجلاس کی صدارت سید ابوذر ہاشمی، پروفیسر شہاب عنایت ملک اور پروفیسر مشتاق احمد نے مشترکہ طور پر کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نثار احمد خان نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں اردو ادب کے عصری مسائل اور رجحانات پر مختلف زاویوں سے مقالات پیش کیے گئے۔ مقالہ نگاروں میں پروفیسر صفدر امام قادری، ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر ابو بکر عباد، ڈاکٹر احسن ایوبی اور ڈاکٹر جگدم بابو ڈبے شامل تھے۔پیش کیے گئے مقالات میں اکیسویں صدی میں اردو ادب کے فکری و جمالیاتی رجحانات، غزل کی روایت اور عصری تقاضے، ماحولیاتی ادب اور اردو فکشن، ترجمہ نگاری اور بین الثقافتی مکالمہ، نیز دلت، اقلیتی اور پسماندہ طبقات کے ادبی اظہار جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔ مقالات پر سنجیدہ اور فکری گفتگو ہوئی جس سے اجلاس کی علمی فضا خاصی بھرپور رہی۔صدارتی خطاب میں جناب سید ابوذر ہاشمی نے کہا کہ اگرچہ ادبی رجحانات کا موضوع نیا نہیں، تاہم اس سمینار کے ذیلی عناوین اپنی انفرادیت کے باعث خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تحریر میں جامعیت کے ساتھ معنویت کا ہونا ہی ایک سنجیدہ قلم کار کی پہچان ہے۔پروفیسر شہاب عنایت ملک نے اردو زبان اور رسم الخط کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اردو رسم الخط میں کتابوں کی کم اشاعت ایک فکر انگیز صورتِ حال ہے۔ پروفیسر مشتاق احمد نے کہا کہ ادب میں مغرب کی محض تقلید درست نہیں، البتہ بدلتے ہوئے تناظر میں اس سے بامعنی استفادہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پیش پا افتادہ موضوعات پر لکھے جانے والے مقالات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے موضوعات پر مواد کی فراوانی کے باوجود سنجیدہ اور معنی خیز گفتگو ایک مشکل مرحلہ بنتی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ اردو ادب میں آج بھی غزل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
ظہرانے کے بعد منعقد ہونے والے دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین اور پروفیسر ابو بکر عباد نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ندیم احمد نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں پروفیسر شہاب عنایت ملک، پروفیسر احمد امتیاز، محترمہ صدف اقبال اور ڈاکٹر سفینہ بیگم نے اپنے مقالات پیش کیے۔ مقالات کے موضوعات میں بچوں اور نوجوانوں کا ادب: نئے رجحانات، اردو میں تہذیبی تنقید کی روایت، نظمِ معرّیٰ، نثری نظم اور نئی شعری جمالیات شامل تھے، جن پر شرکاء نے بامعنی سوالات اور آرا پیش کیں۔اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر ابو بکر عباد نے سمینار کی کامیابی کا سہرا اردو اکادمی کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ پیش کیے گئے تمام مقالات معیاری، بامقصد اور ساخت کے اعتبار سے قابلِ ستائش تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مقالہ نگار سے محض پندرہ منٹ میں تمام تخلیق کاروں اور تصانیف کا احاطہ کرنے کی توقع غیر عملی ہے۔ ان کے مطابق ادب اور تنقید کوئی خطی عمل نہیں بلکہ ایک دائرہ نما فکری سرگرمی ہے جو وقت کے ساتھ وسعت اور گہرائی اختیار کرتی رہتی ہے۔پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے اپنے خطاب میں اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ سمینار میں نئی نسل کی بڑی تعداد میں شرکت دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے اس کامیاب شمولیت پر اردو اکادمی کو مبارکباد دی اور کہا کہ اکیسویں صدی مصنوعی ذہانت کا عہد ہے، جس کی برق رفتاری نے ہماری فکری ساخت اور طرزِ فکر کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ ایسے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ادب کے رجحانات اور رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے، جس کے اثرات تخلیقی ادب میں بھی نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکیسویں صدی میں اردو نے اپنی تخلیقات کو جس طرح عوامی سطح پر پیش کیا ہے، وہ اب عالمی ادب کے مشترکہ ورثے کا حصہ بن چکی ہیں۔ نئی نسل کے تخلیقی بیانیے کو انہوں نے حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تخلیقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مشینی دور کے باوجود اردو ادب نہ صرف زندہ ہے بلکہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔
دونوں اجلاسوں میں ہونے والی گفتگو سے یہ بات واضح ہوئی کہ اکیسویں صدی کا اردو ادب محض روایت کا تسلسل نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے سماجی، فکری اور ثقافتی تناظر میں نئی معنویت اور نئے امکانات کی تشکیل میں مصروف ہے۔ ان اجلاسوں نے سمینار کے مرکزی موضوع کو مزید وسعت بخشی اور معاصر ادبی رجحانات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سمینار کے اختتام پر اردو اکادمی کے اسسٹنٹ پبلی کیشن آفیسر محمد ہارون نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے تمام شرکاء ، مہمانانِ گرامی اور ریسرچ اسکالرز کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سمینار کے کنوینر پروفیسر ابو بکر عباد کی رہنمائی کو سراہتے ہوئے ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، نیز اکادمی کے تمام رفقا کی عملی کاوشوں پر بھی دلی شکریہ ادا کیا۔
