درخواست گزاروں نے آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور دیگر آئینی عہدیداران کی تقاریر کو "توہین آمیز ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے آسام کے وزیرِ اعلیٰ کے حالیہ 'میاں مسلمانوں' سے متعلق بیانات کا حوالہ دیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے پہلے بھی ایک مخصوص برادری کے شہریوں کو سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے، "لَو جہاد" اور "فلڈ جہاد" کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے یہاں تک کہا کہ وہ اس مذہبی گروہ کے چار سے پانچ لاکھ ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح دیگر اعلیٰ عوامی عہدیداران کی غیر آئینی تقاریر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اتراکھنڈ کے وزیرِ اعلیٰ بار بار "لینڈ جہاد" اور "لَو جہاد" کا حوالہ دیتے ہیں۔
اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ اردو زبان کے حامیوں کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مرکزی وزراء اور سینئر حکومتی اہلکار اکثر مسلمانوں کو "درانداز" اور "غیر ملکی ہمدرد" قرار دیتے ہیں، جبکہ قومی سلامتی کے مشیر نے شہریوں کو "تاریخ کا بدلہ لینے" پر ابھارا۔
درخواست گزاروں نے نشاندہی کی ہے کہ ایسی تقاریر، جو شاید نفرت انگیز تقریر کے قانونی دائرے میں نہ آتی ہوں، مجموعی طور پر آئینی اخلاقیات کو نقصان پہنچاتی ہیں اور انہیں بغیر روک ٹوک کے نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رہنما اصولوں کی درخواست کی ہے۔ درخواست گزاروں نے کہا ہے کہ آئینی اخلاقیات کے معیارات، جو آئینی عہدوں پر فائز افراد کے اختیارات پر قدغن لگاتے ہیں، ان تقاریر پر بھی لاگو ہونے چاہئیں، چاہے ان کا سیاسی رجحان کچھ بھی ہو۔
