Masarrat
Masarrat Urdu

ہم نے واضح کردیا ہے کہ دھمکیوں اور دباؤ سے گریز مذاکرات کی بنیادی شرط ہے: ایرانی وزیر خارجہ

  • 07 Feb 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 7 فروری (مسرت ڈاٹ کام) ارنا کے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کا موضوع صرف اور صرف ایٹمی معاملات پر تک محدود ہے۔ یہ اطلاع ارنا نے اپنی رپورٹ میں دی۔

انہوں نے کہا کہ آج ہونے والی ملاقات میں بھی ہم اس بات زور دیا کہ ایٹمی مذاکرات اور مسائل کے لیے ماحول کو پرسکون اور کشیدگی و دھمکیوں سے مکمل طور پر پاک ہونا چاہیے۔

عمان میں امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے اس دور کے اختتام کے بعد، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے مسقط میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھمکیوں اور دباؤ سے گریز مذاکرات کی بنیادی شرائط میں سے ایک اور ہمیں توقع ہے کہ ایسا ہی ہوگا تاکہ مذاکرات اور بات چیت کو آگے بڑھایا جاسکے۔ 

ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ آج عمان میں امریکی وفد کے ساتھ بالواسطہ طور پر کئی ملاقاتیں ہوئيں اوریہ سلسلہ صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہا۔

آج کے مذاکرات ایک اچھی شروعات تھی۔

سید عباس عراقچی حالیہ مذکرات کو اچھی شروعات قرار دیتے ہوئے کہا کہ البتہ مذاکرات جاری رکھنے کے انحصار اس بات پر ہے کہ ہم دارلحکومتوں میں مشاورت کرنے کے بعد بات چیت کو آگے بڑھانے کا کوئي فیصلہ کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کے جاری رکھنے  پر تقریباً اتفاق رائے پایا گيا اور یہ طے پایا تھا کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ لیکن بات چیت کا وقت، طریقہ اور تاریخ کا فیصلہ اگلی مشاورت کے بعد عمان کے وزیر خارجہ بدر بوسعیدی کے ذریعے کیا جائے گا۔ میرے خیال میں اچھا ماحول تھا اور ایک جملے میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک اچھی شروعات تھی۔

وزیر خارجہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اب ہم ایک ایسے مرحلے پر ہیں جہاں آٹھ ہنگامہ خیز مہینوں کے دوران، ہم ایک جنگ اور دیگر تمام مسائل سے گزرنے کے بعد، جو ہم جانتے ہیں، ایک بار پھر مذاکرات کا عمل شروع ہونے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران پیدا ہونے والے بد اعتمادی اور پہلے سے موجود بداعتمادی کے ساتھ مل کر مذاکرات کے لیے سنگين چیلنج ہے۔ ہمیں پہلے اس پر قابو پانا ہو گا اور پھر مذاکرات کے لیے ایک نیا فریم ورک تیار کرنا ہو گا۔ تاکہ ایرانی عوام کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

 ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ "آج اس سلسلے میں کچھ اچھی بات چیت ہوئی اور دونوں فریقوں کے خیالات سنے گئے، اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔" میرا ماننا یہ ہے کہ اگر یہ عمل اور اگر فریق مقابل میں بھی یہی یہ نقطہ نظر دکھائی دے تو ہم ان مذاکرات اور اگلی بات چیت میں میں مذاکرات کے کسی متفقہ فریم ورک تک پہنچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اس بارے میں کوئي پیشگی رائے قائم نہیں کرنا چاہتا لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک اچھی شروعات تھی اور یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے لیکن اس دارو مدار فریق مقابل اور یقیناً تہران میں کیے جانے والے فیصلوں پر منحصر ہے۔ ارنا  کے اس سوال کے جواب میں کہ خطے کے اطراف میں امریکی نقل و حرکت کے باوجود خطے کی سلامتی اس علاقے کے ممالک کی سب سے اہم تشویش اور آیا آج کی بات چیت میں بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا ہے؟ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہماری بات چیت کا موضوع خالصتاً ایٹمی معاملات تک محدو تھا  اور ہم امریکیوں کے ساتھ کسی اور مسئلے پر بات نہیں کر رہے ہیں۔

Ads