لارڈ مینڈلسن، جو گزشتہ برس واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے سے اس وقت مستعفی ہو گئے تھے جب ایپسٹین سے ان کے روابط سے متعلق ای میلز منظرِ عام پر آئے۔ انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ لیبر حکومت کو مزید نقصان نہ پہنچے۔
لارڈ مینڈلسن نے لیبر پارٹی کے جنرل سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں، جس کے اقتباسات میڈیا میں شائع ہوئے، کہا:
“مجھے اس ہفتے کے اختتام پر ایک بار پھر جیفری ایپسٹین سے متعلق پیدا ہونے والے قابلِ فہم غم و غصے سے جوڑا گیا ہے، اور مجھے اس پر افسوس اور شرمندگی ہے۔”
رپورٹس میں حوالہ دیے گئے دستاویزات کے مطابق، جیفری ایپسٹین نے 2003 میں لارڈ مینڈلسن کو مجموعی طور پر 75 ہزار امریکی ڈالر کی ادائیگیاں کیں، جو 25 ہزار ڈالر کی تین الگ الگ قسطوں پر مشتمل تھیں۔
لیبر پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس تنازع سے پیدا ہونے والے سیاسی نقصان کو محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
