Masarrat
Masarrat Urdu

ایپسٹین سے روابط پر برطانوی حکمران جماعت سے لارڈ مینڈلسن کا استعفیٰ

  • 02 Feb 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

لندن، 2 فروری (مسرت ڈاٹ کام) برطانیہ کے سابق کابینہ وزیر اور امریکہ میں سابق برطانوی سفیر لارڈ پیٹر مینڈلسن نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے اپنے ماضی کے روابط سے متعلق نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد حکمراں لیبر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ فیصلہ پارٹی اور حکومت کو مزید شرمندگی سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

لارڈ مینڈلسن، جو گزشتہ برس واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے سے اس وقت مستعفی ہو گئے تھے جب ایپسٹین سے ان کے روابط سے متعلق ای میلز منظرِ عام پر آئے۔ انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ لیبر حکومت کو مزید نقصان نہ پہنچے۔

لارڈ مینڈلسن نے لیبر پارٹی کے جنرل سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں، جس کے اقتباسات میڈیا میں شائع ہوئے، کہا:

“مجھے اس ہفتے کے اختتام پر ایک بار پھر جیفری ایپسٹین سے متعلق پیدا ہونے والے قابلِ فہم غم و غصے سے جوڑا گیا ہے، اور مجھے اس پر افسوس اور شرمندگی ہے۔”

رپورٹس میں حوالہ دیے گئے دستاویزات کے مطابق، جیفری ایپسٹین نے 2003 میں لارڈ مینڈلسن کو مجموعی طور پر 75 ہزار امریکی ڈالر کی ادائیگیاں کیں، جو 25 ہزار ڈالر کی تین الگ الگ قسطوں پر مشتمل تھیں۔

لیبر پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس تنازع سے پیدا ہونے والے سیاسی نقصان کو محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

 

Ads