بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر کھڑگے نے اتوار کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ حکومت کے پاس اب نہ تو کوئی نئے خیالات باقی بچے ہیں اور نہ ہی ملک کو درپیش معاشی، سماجی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ حکومت کے ’مشن موڈ‘ اب ’چیلنج روٹ‘ بن چکے ہیں اور ’ریفارم ایکسپریس‘ کسی بھی اصلاح کے اسٹیشن پر رکتی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسانوں کے لیے بجٹ میں نہ تو کوئی بامعنی فلاحی اسکیم ہے اور نہ ہی آمدنی کے تحفظ کا کوئی قابل اعتماد خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے تشویش ظاہر کی کہ ملک میں آمدنی کی عدم مساوات برطانوی دور حکومت سے بھی آگے بڑھ چکی ہے لیکن بجٹ میں نہ تو اس کا ذکر ہے اور نہ ہی درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات، معاشی طور پر کمزور طبقے اور اقلیتی برادریوں کے لیے کوئی خصوصی راحت۔ انہوں نے کہا کہ فنانس کمیشن کی سفارشات بھی شدید مالی بحران سے دوچار ریاستوں کو کوئی ٹھوس راحت دیتی دکھائی نہیں دیتی ہیں جس سے وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے مینوفیکچرنگ صنعت، روزگار کے مواقع کی کمی، خواتین کی افرادی قوت میں شرکت، برآمدات میں کمی، روپے کی کمزوری، مہنگائی، گھٹتی بچت اور بڑھتے قرض جیسے اہم مسائل پر بجٹ کی خاموشی کو حکومت کی بڑی ناکامی قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سماجی تحفظ اور نئے قوانین کے تحت روزگار اسکیموں کے لیے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہ کیے جانے پر بھی سوال اٹھائے۔
