استنبول، 31 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اپنے دورہ ترکیہ میں میزبان ملک کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ساتھ پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کے درپے نہیں رہا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے ترکیہ کے ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کے درپے نہیں رہا اور ایسے ہتھیار ایران کے سکیورٹی ڈاکٹرائن میں کوئی جگہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات برابری کی بنیاد پر، باہمی مفادات اور باہمی احترام کے ساتھ ہوں تو ایران بات چیت کے لیے تیار ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حالیہ پیش رفت کے دوران، خصوصاً صہیونی حکومت کی جانب سے ایرانی عوام کے خلاف فوجی جارحیت اور جنوری میں پیش آنے والے واقعات میں، جنہیں بیرون ملک سے صیہونی عناصر نے منظم کیا، ترکیہ کے عوام اور حکام نے ایران کی حمایت کی اور ترکیہ کے حکام نے نہایت اصولی اور قابلِ قدر مؤقف اپنایا۔l
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ بعض علاقائی طاقتوں کی ناجائز مداخلت کے باعث خطے کی صورتحال ایک خطرناک سمت میں جا رہی ہے۔ صہیونی حکومت مختلف سازشوں کے ذریعے خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنے، ممالک کو کمزور اور تقسیم کرنے اور اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
عراقچی نے واضح کیا کہ ایران ہر اس سفارتی عمل میں شرکت کے لیے تیار ہے جو بامعنی، منطقی اور منصفانہ ہو، اور جس میں ایران کے جائز اور قانونی مفادات اور خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک بار پھر جوہری مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور میزائل پروگرام کسی بھی صورت مذاکرات کا موضوع نہیں ہوں گے۔
کوئی بھی ملک اپنی سلامتی اور دفاع پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایرانی عوام کی سلامتی کا فیصلہ کسی دوسرے ملک کے ہاتھ میں نہیں دیا جا سکتا۔ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ملک کے دفاع کی ضرورت کے مطابق برقرار رکھے گا اور مزید مضبوط بنائے گا۔
