Masarrat
Masarrat Urdu

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دیے جانے پر یورپی یونین کے خلاف ایران کی مسلح افواج کا باضابطہ بیان

Thumb

تہران، 30 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی فورس کو دہشت گرد قرار دینے پر مبنی یورپی یونین کی حرکت پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یورپ کے اقدام کو منطق  سے دور، غیرذمہ دارانہ، دشمنی اور امریکہ کی اندھی پیروی پر مبنی حرکت قرار دیا جس کا خمیازہ یورپ کو بھگتنا پڑے گا۔یہ رپورٹ سحر ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں دی۔

 مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے بیان میں آیا ہے کہ یورپ نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو اپنے نام نہاد دہشت گردوں کی فہرست میں داخل کرکے ایرانی عوام، مسلح افواج، ایران کی سلامتی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے طاقتور نظام کی خودمختاری سے اپنی دشمنی صاف ظاہر کردی۔

اس بیان میں درج ہے کہ یورپی یونین کا اقدام منطق سے دور، غیرذمہ دارانہ، دشمنی اور امریکہ کی تسلط پسندانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کی بے چوں چرا پیروی پر مبنی ہے۔

ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے یورپی یونین کے مذکورہ اقدام کو امریکہ کے وہم زدہ اور بے عقل صدر اور دہشت گرد اور بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینا عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور آزاد اور خودمختار ریاستوں کے احترام کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اس بیان میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو ایک قانونی ادارہ قرار دیا گیا ہے جس نے پورے استحکام کے ساتھ امریکہ کی سرکاری دہشت گردی اور صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کا صف اول میں رہ کر مقابلہ کیا ہے۔

ایران کی مسلح افواج کے کمان کی جانب سے جاری شدہ بیان میں آیا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب ایک عوامی ادارہ ہے جس کی جڑیں انقلاب اسلامی کے اقدار سے جڑی ہوئی ہیں اور اس ادارے نے امریکی حکام، صیہونی حکومت، بدامنی پھیلانے والی ان کی فوجوں اور مغرب کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مقابلے میں ایران کے دلیر اور جراتمند عوام اور دنیا کی دیگر مظلوم اور ستم رسیدہ قوموں کا ڈٹ کر دفاع کیا اور اس الہی اور انسانی راستے میں ہزاروں شہید اور مجروح بھی پیش کیے ہیں۔

ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے بیان میں درج ہے کہ:" بے شک تمام قوموں اور دنیا کے [انصاف پسند] حکام کے سامنے یہ سوال اٹھ گیا ہے کہ کیوں یورپی یونین پوری بے حیائی اور بے شرمی کے ساتھ اور محض ٹرمپ اور نتن یاہو کی خوشنودی کے لیے جو دنیا کے دہشت گردوں کے سرغنہ ہیں، ایک طاقتور اور اینٹی ٹیرر ادارے پر الزامات عائد کر رہی ہے؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پر عائد کیا جانے والا یہ الزام دنیا اور اس خطے میں دہشت گردی کی حمایت، تقویت، وسعت لانے اور اسے قانونی حیثیت دینے کے لیے لگایا گیا ہے۔"

اس بیان میں امریکہ اور یورپی حکام کے حمایت یافتہ داعش (ISIS) اور منافقین (ایم کے او) جیسے دہشت گرد گروہوں سے مقابلے میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایثار کو، اس انقلابی ادارے کی امن پسندی اور علاقے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے بے مثال کوششوں کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا۔

ایران کی مسلح افواج کے کمان نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور [یورپی یونین کو] خبردار کیا جاتا ہے کہ دشمنی اور اشتعال انگیزی پر مبنی اس خطرناک فیصلے کی مکمل ذمہ داری یورپ نم پالیسی بنانے والوں پر عائد ہوگی۔

اس بیان میں زور دیکر کہا ہے کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج بالخصوص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اپنے ایمان اور علم نیز ایران کے عزیز اور دلیر عوام کی حمایت کی بنیاد پر پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور مستحکم انداز میں وطن عزیز اور خطے کے وقار، اس کی خودمختاری اور سلامتی کی جانب قدم آگے بڑھائیں گے اور اپنی دفاعی طاقت میں روز بروز اضافہ کرتے جائیں گے۔

Ads