Masarrat
Masarrat Urdu

بنگلہ دیش نے چٹاگانگ میں مجوزہ ہندوستانی اقتصادی زون منسوخ کر دیا، کشیدہ تعلقات کے درمیان اس کی جگہ ملٹری اکنامک زون قائم کرنے کا فیصلہ

  • 26 Jan 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

ڈھاکہ، 26 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں گراوٹ کے پس منظر میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے چٹاگانگ کے میرسرائے میں مجوزہ ہندوستانی اقتصادی زون کو منسوخ کرتے ہوئے اس کی جگہ ایک ’ملٹری اکنامک زون‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کا اعلان کرتے ہوئے بنگلہ دیش انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بیڈا) اور بنگلہ دیش اکنامک زونز اتھارٹی (بیزا) کے ایگزیکٹو چیئرمین چوہدری عاشق محمود بن ہارون نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ ’’ہندوستانی اقتصادی زون کو حکومت سے حکومت کے فریم ورک سے خارج کر دیا گیا ہے، جس کے باعث یہ زمین خالی پڑی رہی۔”

ڈھاکہ میں فارن سروس اکیڈمی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عاشق نے کہاکہ “اب اسی مقام پر تقریباً 850 ایکڑ اراضی پر مجوزہ ملٹری اکنامک زون تیار کیا جائے گا۔”

یہ فیصلہ دراصل ایک دو طرفہ منصوبے کے خاتمے کی علامت ہے، جس کا آغاز 2015 میں ہوا تھا، جب بنگلہ دیش نے حکومت سے حکومت کے معاہدے کے تحت ہندوستانی سرمایہ کاروں کے لیے میرسرائے اور مونگلا میں مخصوص صنعتی پارکس کے لیے زمین مختص کرنے پر اتفاق کیا تھا، جسے ہندوستان کی لائن آف کریڈٹ کی حمایت حاصل تھی۔

تاہم ہندوستان میں سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ منصوبہ بار بار تعطل کا شکار رہا اور کئی برسوں میں عملی طور پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ مجموعی طور پر مختص بجٹ کا صرف تقریباً ایک فیصد ہی خرچ ہو پایا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت نے میرسرائے اور مونگلا میں ہندوستانی اقتصادی زون کے منصوبوں کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا تھا۔

ملٹری اکنامک زون کے قیام کا آج کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ — جنہیں بنگلہ دیش میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے، نے نئی دہلی میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے یونس حکومت پر سخت تنقید کی تھی۔ اس پر ڈھاکہ میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا اور نئی دہلی پر سیاسی زاویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا، جسے آج کے فیصلے سے جوڑا جا رہا ہے۔

عاشق نے بتایا کہ یہ فیصلہ آج بیزا کی گورننگ بورڈ کے چوتھے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کی، جو بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی پیداوار کی جانب رخ کرنا معاشی مواقع اور بدلتی عالمی صورتحال دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔

“ہم طویل عرصے سے دفاعی صنعتی پیداوار — چاہے وہ ہتھیار ہوں یا فوجی سازوسامان — پر بات کر رہے ہیں۔ اب عالمی سطح پر اس کی واضح مانگ موجود ہے۔ محض معاشی نقطۂ نظر سے بھی دفاع ایک ایسی صنعت ہے جس میں بنگلہ دیش شمولیت اختیار کر سکتا ہے۔” انہوں نے کہاکہ عاشق کے مطابق حالیہ عالمی تنازعات نے مقامی سطح پر پیداوار کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ بہت سی جنگوں میں کمی جدید ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ بنیادی اشیاء کی ہوتی ہے — جیسے گولیاں، اسپیئر پارٹس، ٹینک کے ایکسل۔ اگر میدانِ جنگ میں گولہ بارود نہ ہو تو لڑنے کا کوئی آپشن نہیں رہتا۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ بنگلہ دیش اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ وہ کہاں عملی طور پر کردار ادا کر سکتا ہے۔

عاشق کے مطابق آرمڈ فورسز ڈویژن، بیزا، چیف ایڈوائزر آفس اور وزارتِ دفاع کافی عرصے سے اس تجویز پر مشترکہ طور پر کام کر رہے تھے اور اب دفاعی صنعتی زون کو بیزا کے ماسٹر پلان میں شامل کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔

 

Ads