بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ کی جانب سے ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ، دیگر جنگی جہازوں اور دفاعی نظام کو آئندہ دنوں میں خطے میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن اپنا راستہ بدل کر جنوبی بحیرۂ چین سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ چکا ہے۔ اس کے ساتھ جدید میزائلوں سے لیس جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔
امریکی بحری بیڑہ جدید ایجس دفاعی نظام سے لیس ہے جو بیلسٹک اور کروز میزائل حملوں سے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل جون میں بھی امریکہ نے خطے میں بڑی فوجی تیاری کی تھی جس کے بعد ایران کے جوہری مراکز پر حملے کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم ایران پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ہمارے پاس سے بڑی فوجی طاقت خلیج کی جانب بھیجی جا رہی ہے، شاید استعمال نہ کرنی پڑے‘، تاہم انہوں نے ایران کی قیادت کی تبدیلی پر براہِ راست کوئی بات کرنے سے گریز کیا تھا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی اقدامات پر سخت ردعمل دیا ہے۔
ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود تمام امریکی اڈے ’جائز اہداف‘ ہوں گے۔
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ’انگلی ٹریگر پر رکھے ہوئے‘ مکمل طور پر تیار ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ایران ’اپنی پوری طاقت سے جواب دے گا‘ اور تصادم طویل اور شدید ہو گا۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کے مشرقِ وسطیٰ میں 40 سے 50 ہزار فوجی تعینات ہیں۔ خطے کے کم از کم 19 مقامات پر امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، جن میں بحرین، قطر، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور اردن شامل ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث بعض بین الاقوامی ایئرلائنز نے دو روز قبل خلیج اور اسرائیل جانے والی پروازیں عارضی طور پر منسوخ یا مؤخر کر دی تھیں تاہم کچھ پروازیں بحال کر دی گئی ہیں۔
امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث 9 بحری جہازوں اور ان کے مالکان پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ جہاز پابندیوں کے باوجود ایران کو کروڑوں ڈالر کی آمدن فراہم کر رہے تھے۔
