وزیرِاعظم نے 2016 میں شروع ہونے والے 'اسٹارٹ اپ انڈیا' کے سفر کو یاد کرتے ہوئے اسے ملک کے مستقبل کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے اسٹارٹ اپس اے آئی، خلائی سائنس، جوہری توانائی اور سیمی کنڈکٹرز جیسے مشکل شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جن کا تصور دس برس پہلے تک مشکل تھا۔ یومِ جمہوریہ کے موقع پر ملک کے عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے وزیرِاعظم نے آج ' رائے دہندگان کے قومی دن' کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ 18 برس کی عمر پوری ہونے پر بطور ووٹر اندراج کو ایک 'جشن' کی طرح منائیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ جب کوئی نوجوان پہلی بار ووٹر بنے تو معاشرے کو اس کا خیرمقدم کرنا چاہیے، تاکہ جمہوری شمولیت کے تئیں بیداری بڑھے۔ وزیرِاعظم نے اتر پردیش کے اعظم گڑھ میں تمسا ندی کی بحالی اور آندھرا پردیش کے اننت پور میں 'اننت نیرو سنرکشنم پروجیکٹ' کی ستائش کی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح مقامی لوگوں نے متحد ہو کر آلودہ ندیوں کو صاف کیا اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں آبی ذخائر کو نئی زندگی دی۔ ثقافتی موضوعات پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم مودی نے نوجوانوں کے درمیان مقبول ہوتی 'بھجن کلبنگ' کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان بھکتی کو اپنی طرزِ زندگی میں ڈھال رہے ہیں۔ پلیٹ فارم جدید ہو سکتا ہے، لیکن بھجن کا وقار اور پاکیزگی برقرار ہے۔ انہوں نے ملائیشیا میں ہندوستانی تارکینِ وطن کی جانب سے تمل زبان کے تحفظ اور وہاں منعقدہ 'لال پاڑ ساڑی' واک کی بھی تعریف کی۔ وزیرِاعظم نے اروناچل پردیش کے نوجوانوں کی جانب سے 11 لاکھ کلو کچرا صاف کرنے اور مدھیہ پردیش کے پنا ضلع میں بیٹ گارڈ جگدیش پرساد اہروار کی طرف سے دواؤں کے پودوں کا ڈیٹا بیس تیار کرنے جیسے اقدامات کی ستائش کی۔
انہوں نے بتایا کہ 'ایک پیڑ ماں کے نام' مہم کے تحت اب تک 200 کروڑ سے زیادہ درخت لگائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے تمل ناڈو کی خاتون کسانوں اور راجستھان کے کسان پروڈیوسر تنظیموں کی مثال دی جو موٹے اناج سے 'ریڈی ٹو ایٹ' مصنوعات تیار کر رہی ہیں۔ وزیرِاعظم نے آئندہ فروری میں ہونے والے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی بات ختم کی اور ملک کے عوام کو یومِ جمہوریہ کی مبارک باد دی۔
