اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں مسٹر کھرگے نے کہا کہ رائے دہندگان کے قومی دن، شہریوں کو حاصل طاقت کی یاد دہانی کراتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’رائے دہندگان کا قومی دن اس بات کی مضبوط یاد دہانی ہے کہ کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے
اور یہ کہ ہماری اجتماعی آواز ہماری مشترکہ تقدیر تشکیل دے سکتی ہے۔‘‘
قابلِ اعتماد انتخابی عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ شہری ایسے انتخابات کے حقدار ہیں جو خوف اور جانبداری سے پاک ہوں۔
مسٹر کھرکے نےمزید کہا کہ ’’ہندوستانی عوام آزاد، منصفانہ اور بے خوف انتخابات کے حقدار ہیں، جہاں صاف شفاف ووٹر فہرستیں اور مساوی مواقع بنیادی شرائط ہوں۔‘‘
انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ بعض طریقوں کے ذریعے جمہوری اقدار کو کمزور کیا جا رہا ہے جو حقِ رائے دہی کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ووٹ چوری اور بغیر منصوبہ بندی کے ایس آئی آر کے ذریعے ’حقِ رائے دہی‘ کو چھیننا ہندوستان کی طویل عرصے سے قائم جمہوریت کو داغدار کرتا ہے۔‘‘
کانگریس صدر نے آئینی اداروں، بالخصوص الیکشن کمیشن آف انڈیا پر دباؤ کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا ’’حالیہ دنوں میں ہمارے ادارے، جیسے الیکشن کمیشن آف انڈیا، مسلسل دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا ’’اس لیے ان کی آزادی اور سالمیت کا تحفظ کرنا ہماری پختہ ذمہ داری ہے ، تاکہ جمہوریت نہ صرف زندہ رہے بلکہ حقیقی طور پر پھلے پھولے‘‘۔
رائے دہندگان کا قومی دن ہر سال 25 جنوری کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد انتخابی عمل میں عوام کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
مسٹر کھرگے کا یہ تبصرہ انتخابی اصلاحات، ووٹر فہرستوں اور ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کی ساکھ کو برقرار رکھنے میں آزاد اداروں کے کردار پر جاری سیاسی بحث کے درمیان آیا ہے۔
