Masarrat
Masarrat Urdu

ٹیکسٹائل انڈسٹری کی خستہ حالی کے لیے مودی ذمہ دار: راہل گاندھی

Thumb

نئی دہلی، 23 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کی صنعت بھاری ٹیرف اور چینی وبنگلہ دیشی مسابقت کی وجہ سے خستہ حال ہو گئی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔

مسٹر راہل گاندھی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ عائد کردہ ٹیرف کے اثرات کو دیکھنے کے لئے ایک گارمنٹ ایکسپورٹ فیکٹری کا دورہ کیا۔ حقائق جاننے کے بعد، انہوں نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگاتے ہوئے لکھا، "مودی جی، آپ جوابدہ ہیں۔ براہ کرم اس معاملے پر توجہ مبذول دیں۔ ہندوستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ہماری معیشت میں دوسری سب سے بڑی روزگار فراہم کرنے والی صنعت ہے اور دنیا بھر ہماری گارمینٹس پسند کی جاتی ہیں۔ ہمارے درزیوں کی کاریگری واقعی بے مثال ہے۔ پھر بھی آج اس صنعت کو امریکی ٹیرف کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال اور خوف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ کی 50 فیصد ٹیرف، یورپ میں گرتی ہوئی قیمتیں، اور بنگلہ دیش اور چین کی سخت مسابقت سے ہمارے گارمنٹس اور ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان ہر طرف سے کچل رہے ہيں، اس کا اثر براہ راست ملازمتوں پر پڑ رہا ہے کیونکہ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، خریداری کم ہو رہی ہے، اور ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صنعت کو کوئی ریلیف مہیا نہیں کی ہے اور نہ ہی ٹیرف پر توجہ دی ہے، جب کہ اس شعبے میں 45 ملین سے زیادہ ملازمتیں اور لاکھوں کاروبار داؤ پر ہیں۔

کانگریس لیڈر نے کہا، "ہریانہ میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری کے حالیہ دورے کے دوران، میں نے خود اپنے درزیوں کی مہارت اور ہمارے لوگوں کی مضبوط صلاحیت اور عزائم کا مشاہدہ کیا - انہیں صرف ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو انہیں حقیقی مدد فراہم کرے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہندوستان امریکہ کے ساتھ ایسا تجارتی معاہدہ کرے جس میں ہندوستانی کاروباروں اور ہندوستانی کارکنوں کو مقدم رکھا جائے۔ وزیر اعظم مودی کو اپنی کمزوریوں کو ہماری معیشت پر مزید اثر انداز ہونے نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا، "50 فیصد امریکی ٹیرف اور غیر یقینی صورتحال سے ہندوستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ ملازمتوں میں کمی، فیکٹریوں کی بندش، اور کم آرڈر ہماری 'مردہ حال معیشت' کی حقیقتیں ہیں۔"

 

Ads