شیخ حسینہ نے کہا، ''پوری قوم کو محمد یونس کی قیادت میں اس کٹھ پتلی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد ہو کر اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ تمام قوتیں جو 1971 کے جذبے کی حامی ہیں، وہ یونس حکومت کے غداری پر مبنی عزائم کا مقابلہ کریں۔''
انہوں نے ایک غیر جانبدار حکومت کی بحالی، روزانہ کے تشدد اور لاقانونیت کے خاتمے، اقلیتوں اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ''پریس اور اپوزیشن کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مبنی کارروائیوں'' کو روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ شیخ حسینہ کو اگست 2024 میں طلبہ کے احتجاج کے دوران اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بنگلہ دیش کو ایک ایسی ''غداری پرمبنی سازش'' کا سامنا ہے جس کا مقصد ''ملک کے علاقے کا سودا کرنا'' ہے، اور متنبہ کیا کہ ملک کی سالمیت اور اتحاد خطرے میں ہے۔
موجودہ صورتحال کو خوف، جبر اور معاشی بدحالی سے تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''بنگلہ دیش آج ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں خون بہہ رہا ہے۔'' عوامی لیگ کی سربراہ نے کہا کہ 5 اگست 2024 کو ان کی برطرفی کے بعد سے ملک لاقانونیت کا شکار ہو گیا ہے۔ شیخ حسینہ نے الزام لگایا کہ '' شدت پسندوں اور محمد یونس نے مجھے زبردستی نکال باہر کیا۔ اس دن سے ملک انارکی میں ڈوب گیا ہے،'' انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمہوری اداروں کو منظم طریقے سے کمزور کیا گیا ہے۔
شیخ حسینہ نے موجودہ بنگلہ دیش کو ''وسیع قید خانہ'' قرار دیا، جہاں عام لوگ روزانہ کے تشدد، عدم تحفظ اور معاشی تنگی کے درمیان بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جمہوریت خطرے میں ہے اور موجودہ نظام کے تحت خواتین اور اقلیتوں پر حملوں میں تیزی سے اضافے کا الزام لگایا۔ عوامی لیگ کے مطالبات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ ان کی جماعت غیر جانبدار حکومت کی بحالی، تشدد اور لاقانونیت کے فوری خاتمے، اور شہری و انتظامی خدمات کی مناسب فعالیت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ اقلیتوں اور خواتین کی حفاظت کو یقینی بنائیں، پریس اور اپوزیشن جماعتوں کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیاں بند کریں اور عدلیہ کی آزادی کو بحال کریں۔
سابق وزیراعظم نے مزید مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کو گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے مدعو کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے بین الاقوامی جانچ ناگزیر ہے۔
شیخ حسینہ نے پریس کانفرنس میں کسی سوال کا جواب نہیں دیا جہاں ہندوستانی اور غیر ملکی میڈیا موجود تھا۔ تاہم، بنگلہ دیش کے سابق وزیر تعلیم محب الحسن چودھری نوفل نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ عوامی لیگ موجودہ عبوری انتظامیہ کو کس طرح ہٹانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا "ہم خانہ جنگی جیسی صورت حال پیدا کرنے کے لیے فوج سے نہیں لڑنا چاہتے ہيں، جس سے یہ ظاہر ہے کہ "لڑائی" جمہوری طریقے اور احتجاج کے ذریعے ہوگی۔"
ڈھاکہ میں عبوری حکام نے شیخ حسینہ کے الزامات پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
