واشنگٹن، 23 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) برطانوی جریدے ’’ دی اکانومسٹ ‘‘ کے حالیہ شمارے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کے سرورق پر ایک کارٹون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک قطبی ریچھ کی سواری کرتے دکھایا گیا ہے۔ یہ ریچھ جزیرہ گرین لینڈ کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ خاکہ جزیرے پر قبضے اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے جس نے امریکہ اور یورپ کے درمیان سفارتی تناؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اطلاع العربیہ اردو نے دی۔
یہ سرورق روسی صدر ولادیمیر پوتین کی مشہور تصاویر کی نقل کرتا ہے جسے جریدے نے ٹرمپ کی جانب سے طاقت کی پالیسی اور علاقائی توسیع پسندی کو اپنانے سے تعبیر کیا ہے۔ اس پالیسی نے واشنگٹن اور اس کے روایتی یورپی اتحادیوں کے درمیان سیاسی سرد مہری پیدا کر دی ہے۔ اپنے مرکزی تجزیے بعنوان ’’ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لاحق اصل خطرہ ‘‘ میں جریدے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گرین لینڈ کا بحران موجودہ امریکی انتظامیہ کی غیر منطقی توسیع پسندی کے ایک گہرے نمونے کی عکاسی کرتا ہے۔
جریدے کی رائے میں ڈیووس فورم کے دوران ٹرمپ کا پیچھے ہٹنا اور ڈنمارک کے خلاف تجارتی محصولات کی دھمکیوں سے دستبردار ہونا ان کے نظریات میں کسی بنیادی تبدیلی کی علامت نہیں بلکہ یہ ایک عارضی چال ہے جو وائٹ ہاؤس کے اس نقطہ نظر کو ختم نہیں کرتی جس میں وہ بین الاقوامی اتحادوں کو پائیدار تزویراتی عزم کے بجائے لین دین کے قابل تجارتی سودوں کے طور پر دیکھتا ہے۔
جریدے نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس بحران سے بے نقاب ہونے والا سب سے بڑا خطرہ امریکہ پر ایک قابلِ اعتماد سکیورٹی پارٹنر کے طور پر عالمی اعتماد کا اٹھ جانا ہے جو یورپی اتحادیوں کو اس ضرورت کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا کے لیے سنجیدہ تیاری کریں جہاں وہ روایتی نیٹو چھتری کے بغیر خود کو تنہا پا سکتے ہیں۔
