Masarrat
Masarrat Urdu

شام: حلب کے 7 محلوں میں کرفیو نافذ، سیرین ڈیموکریٹک فورسز میں اختلافات کی خبریں

  • 09 Jan 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

دمشق، 9 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) شامی حکام نے حلب کے سات محلوں میں تاحکم ثانی کرفیو نافذ کر دیا۔ شامی فوج اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان مسلسل تیسرے دن بھاری ہتھیاروں سے شدید جھڑپیں جاری رہیں۔ شامی فوج نے حلب کے علاقوں الاشرفیہ اور بنی زید کے تمام باسیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کھڑکیوں کے قریب نہ جائیں اور فوری طور پر ہر عمارت کی نچلی منزلوں پر چلے جائیں۔

دوسری جانب حلب کے گورنر عزام الغریب نے اعلان کیا ہے کہ داخلی امن فورسز شمالی شام کے شہر حلب کے علاقوں شیخ مقصود اور الاشرفیہ کے اندر تعینات ہونے کی تیاری کر رہی ہیں۔ گورنر عزام الغریب نے حلب گورنری کی عمارت میں مرکزی کمیٹی کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ موصول اطلاعات کے مطابق شیخ مقصود اور الاشرفیہ کے محلوں میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کے ارکان کی بڑی تعداد میں اختلاف اور ایک دوسرے حصے کے فرار ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

 

یہ پیش رفت ان علاقوں میں ایک اہم فیلڈ کی تبدیلی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ اب داخلی امن فورسز مذکورہ محلوں کے اندر تعینات ہونے کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ ان محلوں کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے اور بے گھر ہونے والے باسیوں کی اپنے گھروں کو بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

حلب کے گورنر نے شہرِ حلب کے محلوں کے مکینوں سے مکمل طور پر ہدایات پر عمل کرنے اور سکیورٹی آپریشنز کے خاتمے تک واپسی میں جلدی نہ کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ واپسی کا عمل باضابطہ نوٹیفکیشنز کے ذریعے منظم کیا جائے گا۔ یہ نوٹیفکیشنز منظور شدہ پلیٹ فارمز پر شائع کیے جائیں گے۔

دوسری طرف سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کے کمانڈر مظلوم عبدی نے خبردار کیا ہے کہ حلب شہر میں لڑائی کا جاری رہنا حکومت کے ساتھ مفاہمت کے امکانات کو کمزور کر رہا ہے۔ یہ وارننگ فریقین کے درمیان دو دن کی شدید جھڑپوں، جن میں کئی لوگ مارے جا چکے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ عبدی نے ایک بیان میں کہا کہ لڑائی کے طرزِ عمل اور جنگ کی زبان کا تسلسل مفاہمت تک پہنچنے کے مواقع کو ختم کر رہا ہے اور خطرناک آبادیاتی تبدیلیوں کے لیے حالات سازگار بنا رہا ہے۔

اسی تناظر میں حلب رسپانس کی مرکزی کمیٹی نے آج حلب کے مرکز میں انسانی راہداریوں اور سویلین علاقوں کے نواح پر سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی گولہ باری کے نتیجے میں 10 اموات اور 88 افراد کے زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ حلب رسپانس کی مرکزی کمیٹی نے باسیوں کی نقل مکانی کی تحریک کے ابتدائی گھنٹوں سے ہی شیخ مقصود، الاشرفیہ اور متعدد قریبی محلوں سے شہریوں کے انخلا کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع ایمرجنسی پلان پر عمل درآمد شروع کر دیا تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔

کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اسے اب تک تقریباً 1 لاکھ 42 ہزار بے گھر افراد موصول ہوئے ہیں جن میں سے 13 ہزار آج دوپہر ایک بجے تک آئے ہیں جہاں 80 ٹرانسپورٹ گاڑیاں روانہ کی گئیں اور 12 عارضی پناہ گاہیں کھولی گئیں۔ ان پناہ گاہوں میں سے 10 شہرِ حلب کے اندر اور دو اعزاز اور عفرین کے علاقوں میں ہیں۔ لوگوں کی آمد اب بھی جاری ہے۔

Ads