Masarrat
Masarrat Urdu

فیض الہٰی احاطے میں انہدامی کارروائی غیر قانونی: آل محمد اقبال

Thumb

نئی دہلی، 7 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) دارالحکومت دہلی کے ترکمان گیٹ علاقہ میں واقع مسجد اور درگاہ فیض الٰہی کے اطراف میں واقع ڈسپنسری اور دیگر عمارت کے خلاف ہوئی انہدامی کارروائی کے بعد سیاسی ماحول گرما گیا ہے۔

مٹیا محل کے رکن اسمبلی آل محمد اقبال ، جوکہ عام آدمی پارٹی سے ہیں، انھوں نے بھی اس انہدامی کارروائی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انہدامی کارروائی مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے سوال کیا کہ جب اس معاملے میں عدالت میں سماعت چل رہی تھی تو انتظامیہ نے اس قدر جلد بازی کیوں دکھائی اورعدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی کارروائی کیوں کی گئی۔ اعلی افسران نے صرف اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے یہ انہدامی کارروائی کی ہے، یہ کارروائی اس بات کو بھی ثابت کرتی ہے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کے تئیں کس حد تک نفرت بھری ہوئی ہے، رکن اسمبلی نے کہا ۔

انھوں نے مزید کیا کہ جس جگہ کو یہ بارات گھر کہہ رہے ہیں وہ بارات گھر نہیں، ایک قبرستان ہے۔ وہاں عارضی طور پر غریب بچیوں کی شادیاں ہوا کرتی تھیں۔ وہاں ایک چیری ٹیبل ہیلتھ سینٹر بھی چلتا تھا، جہاں محض تیس روپے میں غریبوں کو تین دنوں کی دوائیاں دی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ کم پیسوں میں کئی اہم جانچ بھی کرانے کا بھی وہاں انتظام تھا۔

ایک عام آدمی عدالت پہنچ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ جگہ ’ایم سی ڈی‘ اور ’ایل این ڈی او‘ کی ہے، لیکن سرکاری ایجنسی کو یہ پتہ نہیں ہے کہ یہ جگہ ان کی ہے۔ آج تک ’ایم سی ڈی‘ اور ’ایل این ڈی او‘ نے درگاہ یا مسجد کمیٹی کو کوئی نوٹس نہیں دیا کہ یہ جگہ سرکاری ہے اور اسے خالی کر دیا جائے۔انھوں نے مزید کہا کہ دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ سات فیصد کا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، تب یہ جگہ آڈٹ ہوتی ہے اور وقف بورڈ حکومت دہلی کا حصہ ہے۔ جب عدالت میں دہلی کی 123 اراضی کے معاملے زیر سماعت ہیں تو اس قسم کی کارروائی ناقابل برداشت ہے۔ در اصل اس کارروائی کا مقصد ماحول خراب کرنا ہے اور اپنے ووٹ بینک کو خوش کرنا ہے۔

 

Ads