کانگریس کی سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی سربراہ سپریا شرینیٹ نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اترپردیش میں کوڈین کف سیرپ آسانی سے 40-45 روپے میں دستیاب ہے۔ اس شربت سے لوگ شدید نشے کے شکار ہو رہے ہیں۔ ریاست کے بچے بھی اس نشے کی لت میں آرہے ہیں اور ان کے خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔ کسی بھی طرح کا نشہ ملک کے سامنے ایک سنگین مسئلہ ہے، جس پر بحث ضروری ہے۔ حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ سڑکوں سے لے کر اسکول-کالج کے کیمپس تک ہر طرح کا نشہ آسانی سے دستیاب ہے۔ پہلے چرس، گانجہ، افیون جیسے نشے کی بات ہوتی تھی لیکن آج کف سیرپ کا نشہ اترپردیش میں پھیل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس شربت میں کتنا نشہ ہے اور اس کی لت کتنی خطرناک ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریاست کے اُناؤ میں آکاش نام کے ایک لڑکے کو کف سیرپ کی لت لگ گئی۔ اس کی لت چھوٹی نہیں اور اسے یہ سیرپ آسانی سے ملتا ہے۔ محض 17 سال کے اس لڑکے نے پہلے جیب خرچ سے سیرپ خریدا، پھر گھر کا سامان اور ماں کے زیور بیچنے لگا۔ گھر والوں نے ڈانٹ لگائی تو چین چھیننے لگا۔ اب آکاش کا جگر اور گردے خراب ہو چکے ہیں، پیٹ میں پانی بھر گیا ہے۔ علاج پر لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں لیکن لت نہیں چھوٹتی۔ یہ کہانی صرف آکاش کی نہیں بلکہ ان بے شمار نوجوانوں کی ہے جو کف سیرپ کے نشے کا شکار ہو رہے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ کوڈین کف سیرپ کا اتر پردیش کا کنگ پن شبھم جیسوال ہے جو وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے وارانسی کا رہنے والا ہے اور گزشتہ پانچ سال میں اس نے 500 کروڑ روپے کی کمائی اسی شربت سے کی ہے۔ اس کا دھندہ صرف اتر پردیش میں نہیں بلکہ بہار، مغربی بنگال، بنگلہ دیش اور نیپال تک پھیلا ہے۔ اس پورے ریکٹ میں شبھم جیسوال اکیلا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دھنجے سنگھ، امیت سنگھ ٹاٹا اور اتر پردیش پولیس کا برخاست سپاہی آلوک بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوڈین کف سیرپ کے کاروبار میں شامل دھنجے سنگھ سیاست سے جڑا ایک بڑا لیڈر ہے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحادی جنتا دل-یو کے قومی جنرل سکریٹری ہیں اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے قریبی ہیں۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی بھی ان پر مہربانی ہے۔ دھنجے سنگھ اس دھندے میں شامل لوگوں کو اپنا چھوٹا بھائی بتاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دھنجے سنگھ پر بلڈوزر کب چلے گا۔
کانگریس لیڈر نے کہاکہ "کوڈین معاملے میں وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ اترپردیش میں ہر ایک کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جا رہی ہے اور ابھی تک کوئی موت نہیں ہوئی ہے۔ مطلب جب کسی کی موت ہوگی، تبھی سنگین معاملہ بنے گا اور بلڈوزر نکلے گا۔ لوگوں کے گردے خراب ہوں یا لوگ نشے کے شکار ہوں—ان سے حکومت کو کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس معاملے میں صرف لیپا پوتی کی گئی۔ کچھ چھوٹے موٹے لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا، کچھ ٹرک برآمد کئے گئے اور کچھ گوداموں پر چھاپے پڑے۔"
انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کو بتانا چاہیے کہ شبھم جیسوال اور دھنجے سنگھ کہاں ہیں۔ کیا مجرموں کے خلاف بلڈوزر چلانے والی یوگی حکومت کا بلڈوزر ان پر بھی چلے گا اور حکومت بتائے کہ ان پر کارروائی کب ہوگی۔
