اردو الفبا، عربی حروف تہجی کی اضافہ شدہ شکل ہے۔ عربی رسم خط، رومن کے بعد، دنیا میں سب سے زیادہ مستعمل رسم خط ہے۔ ہند ایران اور ترک زبانوں میں اس کی وہ شکل مروج ہوئی جو ترمیم و اضافہ کے بعد فارسی میں رائج ہوئی تھی؛ جبکہ انڈونیشیائی زبانیں اس شکل کو استعمال کرتی ہیں جن کو Jawai کہا جاتا ہے ۔عربی اور اس کے ترمیم شدہ رسوم خط میں، عام طور سے حروف علّت کو لکھا نہیں جاتا ہے۔ محض حروف صحیح کو لکھا جاتا ہے اور حروف علت کا کام اعراب سے لیا جاتاہے؛ مگر کرد، کشمیری اور یوگور (Uighur) میں حروف علّت کا لکھا جانا لازمی ہے۔
ظہور اسلام سے قبل عربوں میں خواندگی بہت کم تھی۔ ان کی حکائی روایت زیادہ توانا تھی۔ چنانچہ عربی زبان کا قدیم ترین کتبہ جو دریافت ہوسکا ہے وہ 328ء کا ہے جس کا خط نبطی ہے۔ قیاس کیا گیا ہے کہ عربوں نے تیسری صدی عیسوی میں نبطی خط اختیار کیا تھا جس میں وقت کے ساتھ تبدیلی آتی گئی۔ چنانچہ ظہور اسلام کے وقت کوفی خط مروج و مقبول تھا۔ جس زمانہ میں کوفی خط، کوفہ اور بصرہ اور اس سے باہر پھیل رہاتھا اسی زمانہ میں نسخ کی پرورش مکہ اور مدینہ میں ہوئی۔ یہ دونوں ہی نبطی خط سے ماخوذ ہیں۔
اُس وقت تک حروف پر نقطے لگانے اور اعراب کا رواج نہیں تھا۔ عر ب اپنی زبان پر قدرت رکھتے تھے اور صحیح قرأت کے لیے نقطے اور اعراب کے محتاج نہیں تھے۔ جب اسلام غیر عربوں میں پھیلا تو نئی ضرورت کے تحت حضرت علی کے شاگرد ابو الاسود دوئلی نے 50ھ میں اعراب کے لیے نقطے کے استعمال کو رواج دیا۔ مثلاً کسی حرف کے نیچے ایک نقطہ زیر کے لیے اور اوپر ایک نقطہ زبر کے لیے۔ اسی طرح پیش کے لیے حرف کے کنارے ایک نقطہ اور تنوین کے لیے دو نقطے۔ پھر 65ھ میں، ہم شکل حروف میں امتیاز کرنے کے لیے نقطے وضع کیے گئے۔ امتیاز کی شکل یہ نکالی گئی کہ ہم شکل حروف کے نقطے (یعنی منقوطہ حروف کے نقطے) سیاہ رنگ کے اور اعراب کے نقطے قرمزی رنگ کے بنائے جانے لگے۔ تیس چالیس سال بعد جب عبدالرحمن خلیل بن احمد عروضی نے اعراب کی خاص شکلیں وضع کیں تو رنگوں کے ذریعہ امتیاز پیدا کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
ابتدا میں عربی میں 22 حروف تھے۔ بعد میں 6 حروف یعنی ث، خ، ذ، ض، ظ، غ کا اضافہ کیا گیا اور ان کو ابجد کی ترتیب میں 22 حروف کے بعد رکھاگیا۔ چوتھی صدی ہجری میں لام الف کو ملاکر ’’لا‘‘ لکھنے کا رواج ہوا۔ رسالہ دلگداز کے مئی 1913 کے شمارے میں عبد الحلیم شرر نے اپنے مضمون ’’ابوالاسود دوئلی‘‘ میں اس کی تفصیل پیش کی ہے۔
چوتھی صدی ہجری میں ایران میں، رقاع اور توقیع سے ایک نیا خط نکلا جو تعلیق کے نام سے مشہور و مقبول ہوا۔ پھر نسخ اور تعلیق کے ملاپ سے نستعلیق وضع ہوا جو اپنی نزاکت اور خوشنمائی کی وجہ سے فارسی اور پھر اردو کا مقبول ترین خط ہے۔
فارسی زبان کی ضرور توں کے تحت عربی حروف میں پ، چ، ژ، اور گ کا اضافہ کیا گیا۔ اسی طرح اردو کی ضرورت کے تحت چار نقطے(::) اور ھ کی مدد سے 14 نئی آوازوں کو لکھنے کا اہتمام ہوا؛ یعنی ت ہندی، دال ہندی اور رائے ہندی کو۔ مگر فلزی ٹائپ کی ایجاد سے قبل جب لکڑی کے ٹھپّہ کی چھپائی میں ان نقطوں کی روشنائی آپس میں ملنے لگی تو طباعت کی ضرورتوں کے تحت چار نقطے کی جگہ ’’ط‘‘ کا استعمال شروع ہوا یعنی ٹ، ڈ، اور ’’ڑ‘‘ لکھا جانے لگا۔ اسی طرح حسب ضرورت ھ کی مددسے بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ وغیرہ لکھنے کی صورت پیدا ہوئی۔
فارسی اور اردو کے علاوہ اس رسم خط کا استعمال، ترمیم و اضافہ کے ساتھ، بربر (مراقش)، نوبین (سوڈان)، کرد، پنجابی، سندھی، کشمیری، سرائیکی، پشتو، دری، یوگور (سینکیانگ)، ملئے (ملیشیا) اور مرکزی ایشیا کی بہت سی زبانوں میں ہوتا رہا ہے۔ ملئے اور سواحلی زبان کو عربی اور رومن دونوں رسم خط میں لکھنے کا رواج ہے۔ 16ویں صدی تک اس کا استعمال ہسپانوی (Spanish) زبان کو لکھنے کے لیے بھی ہوتا تھا۔ آروی، روہنگیا، بورشکی کو بھی اس میں لکھا جاتا ہے۔ روایتی طور پر ترکی زبان کے لیے عربی رسم استعمال ہوتا تھا مگر 1928 میں سرکاری طور پر اس کے لیے رومن رسم خط کو اپنا لیا گیا۔ اب عربی رسمِ خط میں لکھے جانے والی ترکی زبا ن کو عثمانی ترکی کہتے ہیں۔
مرکزی ایشیا کی زبانوں کو عربی رسم خط میں لکھنے کا رواج تھا۔ 1920 کی دہائی میں آذر بائیجان، ترکمانستان اور ازبکستان کی زبانوں کے لیے رومن رسم خط کو اپنایا گیا اور پھر 1940 کی دہائی میں سریلک (Cyrillic) یعنی روسی زبان کے رسم خط کو اپنا لیا گیا۔ 1990 کی دہائی میں سویت یونین کے بکھراؤ کے بعد ان زبانوں نے پھر سے رومن کی طرف پیش قدمی کی ہے۔
قزاخستان کی زبان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا اور اب وہ بھی رومن کو پھر سے اپنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
افغانستان میں ازبک کے لیے اور ایران میں آزر بائیجانی زبان کے لیے عربی کی ترمیم شدہ رسم خط کا استعمال بدستور جاری ہے۔ سینکیانگ یوگور خود مختار خطے (شمال مغربی چین) میں آذر بائیجانی زبان کے لیے سرکاری رسم خط عربی ہے۔
یوگور زبان کے لیے 1969 میں لاطینی رسم خط کو اختیار کیا گیا مگر 1983میں پھر سے واپس عربی رسم خط کو اپنا لیا گیا، البتہ اس میں حروف علت کے لکھے جانے کو لازمی بنادیا گیا۔
سینکیانگ یوگور خودمختار خطے (شمال مغربی چین) میں آباد ایک لاکھ پچاس ہزار کرغز بولنے والے عربی رسم خط کا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان، ایران، افغانستان اور چین میں آباد قزاخ اپنی زبان کے لیے عربی رسم خط کا ہی استعمال کرتے ہیں۔
ابجد کے بارے میں طرح طرح کی روایتیں مشہور رہی ہیں۔ چنانچہ فرہنگ آصفیہ میں لکھاہے: ’’ابجد دو ہیں۔ ایک آدم علیہ السلام کی ترتیب دی ہوئی اور دوسری حضرت ادریس علیہ السلام کی۔ چنانچہ آجکل ادریس ہی کی ابجد جاری ہے۔ انہوں نے اسی ابجد کو ترتیب دے کر آٹھ بامعنی کلمے بنائے اور ابجد ادریس اس کا نام رکھا۔ اس ابجد میں عربی کے تمام حروف آگئے ہیں۔"
فرہنگ آصفیہ میں رسالہ ضوابط عظیم کے حوالہ سے ان آٹھ کلمات کے معنی اس طرح درج کیے گئے ہیں: ’’ابجد یعنی شروع کیا۔ ہوّز یعنی مل گیا۔حطّی یعنی واقف ہوا۔ کلمن یعنی متکلم ہوا۔سعفص یعنی اس سے سیکھا۔ قرشت یعنی ترتیب دیا۔ ثخّذ یعنی محفوظ رکھا۔ ضظغ یعنی تمام کیا۔‘‘ اس سے قبل صاحب فرہنگ آصفیہ نے ان کلمات کے کچھ اور معنی بھی درج کیا ہے مگر کوئی حوالہ نہیں دیا ہے۔
فرہنگ آصفیہ کا یہ بھی کہنا ہے: ’’بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ آباجاد ایک بادشاہ کانام تھا جس کا مخفف ابجد ہے اور باقی سات کلمے اس کے ساتھ بیٹوں کے نام ہیں۔ چنانچہ صراح وغیرہ میں اس کی تشریح کی گئی ہے۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مرامر نام کا ایک شخص تھا۔ لکھنے کا طریقہ اسی کا ایجاد ہے اور یہ آٹھوں کلمے اس کے آٹھوں بیٹے کے نام ہیں‘‘۔
اردو میں اس موضوع پر سب سے وقیع کام محمد اسحاق صدیقی نے کیاتھا۔ ان کی کتاب ’’فن تحریر کی تاریخ‘‘ انجمن ترقی اردو ہند سے 1962 میں شائع ہوئی تھی لیکن بعد میں اس طرف توجہ نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اردو کا دامن اس میدان میں ہونے والی جدید ترین تحقیقات و انکشافات سے خالی رہا۔
جدید ترین رائے یہ ہے کہ ابجد یعنی حروف پر مبنی رسم خط کی ابتداء فراعین عہد کے مصر میں یعنی حضرت عیسیٰ سے تقریباً دو ہزار سال قبل ان سامی لوگوں کے ذریعہ ہوئی جو وہاں قیام پذیر تھے۔ ان کے مرتبہ اور وہاں قیام پذیر ہونے کی وجہ کے بارے میں اب تک کوئی حتّمی رائے قائم نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے مصری ہیرو غلیفی رسم خط کو ترقی دے کر حروف پر مبنی جدید رسم خط کو وضع کیا۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں اور پھر اسی صدی کے اواخر میں، آثار قدیمہ کے دو ایسے انکشافات ہوئے جن سے یہ لگ بھگ طے ہوگیا کہ حروف کی ابتداء مصر میں ہوئی تھی۔
سترہویں صدی کے وسط میں بعض یورپی ماہرین نے یہ رائے قائم کی کہ قدیم عبرانی کے حروف، مصر کے ہیرو غلیفی خط سے نکلتے تھے یاکم از کم اس سے متأثر ہو کر وضع کیے گئے تھے۔ 1823میں جب ہیرو غلیفی کو پڑھا جاسکا تو پتہ چلا کہ ان دونوں رسم خط کی بنیاد بالکل ہی الگ الگ اصول تحریر پر تھی۔ پوری انیسویں صدی کے دوران جیسے جیسے فنیقی رسم خط کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوا اور اس کی تاریخی اہمیت بڑھی اس پر بحث جاری رہی کہ قدیم مصر کے بالکل قریب فنیقی اور عبرانی دونوں رسم خط کا ظہور پذیر ہونا محض اتفاق نہیں ہوسکتا۔ اس سلسلے میں پہلی پیش رفت تب ہوئی جب ایک برطانوی ماہر آثارقدیمہ فلینڈرس پِٹری (Flinders Petric) کو 1905 میں 30 ایسے کتبات، مصر کے سینائی علاقہ میں ملے جن کا خط، اس وقت تک معلوم تمام طرز تحریر سے مختلف تھا۔ اندازہ ہوکہ یہ فنیقی رسم خط سے پہلے کا کوئی خط ہے۔ کوئی دس سال تک اسے پڑھا نہیں جاسکا۔ پھر 1916 میں گارڈنر (Gardiner) نے اپنا مشہور مقالہ The Egytian Origin of Semitic Alphabet شائع کیا جس نے آئندہ مطالعہ کی راہ ہموار کی۔ گارڈنر نے کہا کہ سینیائی طرز تحریر الفبائی ہے جس میں ایکروفونی کے اصول سے مدد لی گئی ہے، یعنی جس میں لفظ کے پہلے فونیم کو لے کر بقیہ آواز کو حذف کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینائی تحریر جن الگ الگ حروف کی شکل میں ہے ان میں سے ہر ایک کو مصری ہیرو غلیفی سے ہی الگ الگ نقل کر کے بنایاگیا ہے۔ اگر ان کو ٹھیک سے پڑھا جائے تو اس سے قدیم سامی الفاظ برآمد ہوں گے۔ گارڈنر نے اس سلسلے میں ایک لفظ Baalat کی مثال بھی پیش کی۔ ماہرین کی رائے یہ تھی کہ ان تیس کتبات کو 1750 ق م یا 1500 ق م میں تیار کیا گیا ہوگا۔ ان کی یہ بھی رائے تھی کہ ان کتبات میں 27 علامات (یانشانات) کو جس پختگی سے لکھا گیا ہے اس سے پتہ چلتاہے کہ ان کی ایجاد کئی صدی قبل ہوئی ہوگی اور یہ قدیم سامی روایت کا حصہ تھیں۔ پھر 1929 میں اور اس کے بعد بیسویں صدی کے وسط تک جو کتبات دریافت ہوتے رہے ان سے یہ بات سامنے آئی کہ فنیقی رسم خط سے قبل، تقریباً 1700 ق م میں کنعانی رسم خط مروج تھا اور یہ بھی ایک وسیع ترسامی روایت کا حصہ تھا۔ ماہرین کی رائے یہ تھی کہ سامی رسم خط سے پیدا ہونے والے دو گروہوں یعنی سینائی اور کنعانی طرز تحریر میں کنعانی غالباً پہلے ظہور پذیر ہوا تھا۔ لہٰذا 1960 تک یہی عام رائے تھی۔ حتیّٰ کہ 1990 کی دہائی میں دریافت ہونے والے بعض کتبات نے حروف کی ایجاد کو مزید کئی صدی پہلے پہنچا دیا۔
قاہرہ سے ڈھائی سوکلو میٹر کی دوری پر وادی ہول میں Yale یونیورسٹی کے John Coleman Darnell کو کچھ اجنبی کتبات نظر آئے۔ پہلی نظر میں وہ سینائی کتبات سے مشابہہ لگے۔ پھر رفتہ رفتہ اندازہ ہوا کہ وہ تحریریں الفبائی تھیں اور سینائی اور کنعانی خط سے قربت رکھتی تھیں۔ 1998 تک یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ نودریافت کتبات اب تک ملنے والی الفبائی تحریروں میں سب سے قدیم ہیں اور ان کا زمانہ 1800 ق م کے آس پاس کا ہے۔ یہ بھی مانا گیا کہ یہ کتبات حروف کی ایجاد کے بعد کے ہیں۔ اس طرح وادی ہول کے کتبات کی مدد سے اب یہ مانا جارہا ہے کہ مصر میں دو ہزارق م میں حروف وضع ہوئے تھے۔ 1999 سے اس قسم کے اعلانات کا سلسلہ جاری ہے۔
اب صورتحال اس طرح ابھرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ سے دوہزار سال قبل وجود میں آنے والے الفبا کی کنعانی روایت سے دو دھارائیں نکلتی ہیں۔ اس کی عربی شاخ سے 1300ق م میں جنوبی عربی الفبا وجود میں آیا جس سے قدیم و جدید ایتھوپیائی رسم خط پیدا ہوا۔ اسی کنعانی روایت کی دوسری دھارا سے 1000 ق م میں فنیقی رسم خط پیدا ہوا جس سے قدیم اور جدید عبرانی رسم خط کی پیدائش ہوئی اور پھر جس کی ارامی شاخ سے ایک طرف نبطی خط اور بالآخر 375 ء میں عربی رسم خط پیدا ہوا۔ اس فنیقی رسم خط کے ارامی روپ سے ہی ہندوستان کا برہمی رسم خط نکلا جس سے ایک طرف ہندوستان کا جدید دیوناگری اور کمبوڈیا کا کھمیر خط پیدا ہوا تو دوسری طرف برمی زبان کا رسم خط نکلا۔ فنیقی رسم خط بہت برگ وبار لایا۔ اس نے متذکرہ بالا کے علاوہ ایک اور بڑی یوروپی روایت کو بھی جنم دیا۔ تجارتی لین دین نے یونانی اور فنیقی زبان کے درمیان مضبوط رشتہ پیداکیا تھا۔ یونانیوں کے پاس تحریر کی روایت نہیں تھی۔ 1000ق م میں یونانیوں نے فنیقی رسم خط سے استفادہ کیا اور اس میں کچھ ترمیم و اضافہ کرکے 800 ق م تک اپنی زبان کو لکھنے کا طریقہ پیدا کرلیا۔ حروف اور ان کے نام تقریباً وہی رہے البتہ ان کا تلفظ قدرے بدل گیا۔ الف، الفا بن گیا اور بیت یعنی ب، بِیٹا بن گیا۔ حروف اور ا ن کا تلفظ تو قدرے بدل کر یونانی رسم کی پیدائش کا ذریعہ بنا جہاں سے یوروپی زبانوں میں پھیلا مگر فنیقی میں ان حروف کاجو مطلب و معنی تھا وہ یونانی اور یورپی زبانوں میں معدوم ہوگیا۔ ذیل میں دیے گئے چارٹ سے اس کا اندازہ ہوگا۔ یونانی رسم خط جہاں ایک طرف روسی زبان کا موجودہ Cyrillic رسم خط 900ء میں نکلا۔ وہیں اس سے بہت قبل 700 ق م میں Etruscan اور 600 ق م میں قدیم رومن رسم خط پیداہوا۔
*قیصر شمیم*
(مطبوعہ نئی کتاب 23، نئی دہلی، اکتوبر تا دسمبر 2012).
☝ جن لوگوں نے پہلے نہیں پڑھا تھا وہ دیکھیں کہ ہم زبان ہی نہیں رسم الخط کے معاملے میں بھی کس عظیم الشان روایت کے وارث ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہم کس ٹٹ پجیا رسم الخط کی طرف کیسے راغب ہوسکتے ہیں!
قیصر شمیم

