Masarrat
Masarrat Urdu

غداری اور عہد شکنی ہر ایک کے ساتھ حرام ہے خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو



وہ تمام عادتیں اور صفتیں جو انسان کو انسان بناتی ہیں اور خدائے واحد سے قریب کرتی ہیں وہ نیکیوں میں شمار ہوتی ہیں اور دنیا و آخرت میں سرخ روئی کا سبب بنتی ہیں اور تمام خصوصیتیں اور عادتیں جو انسان کو انسانیت سے دور کرتی ہیں اور شیطان سے قریب کرتی ہیں وہ برائیوں میں شمار ہوتی ہیں اور دنیا اور آخرت میں ذلت اور رسوائی کا سبب بنتی ہیں۔ نفاق یا منافقت ایک ایسی برائی ہے جو کفر سے بھی بدتر ہے۔ سزا کے لحاظ سے شرک سے بھی بدتر ہے کیونکہ منافق دوزخ میں سب سے نچلے درجے میں رہے گا۔’’یقین جانو! منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے، تم کسی کو اس کا مددگار نہ پاؤگے‘‘(سورہ نساء: 145)۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں منافقت سے باز رہنے کی بات کہی گئی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ (سورہ الصف:2-3)
قرآن مجید میں ایک سورہ ہے جس کا نام ’منافقون‘ ہے۔ اس میں منافقین کے طرز عمل پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ سورہ ’توبہ‘ میں منافقوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر ستر بار بھی ان کیلئے دعا کی جائے خواہ کوئی کرے ان کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ’’اللہ ان مذاق کرنے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کیلئے دردناک سزا ہے۔ اے نبیؐ؛ تم خواہ ایسے لوگوں کیلئے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ بھی انھیں معاف کر دینے کی درخواست کروگے تو اللہ انھیں ہر گز معاف نہ کرے گا۔ اس لئے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہِ نجات نہیں دکھاتا‘‘۔ (سورہ توبہ:79-80) بخاری اور مسلم میں ایک حدیث ہے: حضرت عبداللہ ابن عمروؓ بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس میں یہ چار خصلتیں ہوں وہ منافق ہوگا اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی، یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالی گلوج کرے اور جب عہد و پیمان کرے تو غداری کرے‘‘۔ 
صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی روایت ہے لیکن اس کے الفاظ اس طرح ہیں: ’’منافق کی تین علامتیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب امانت سونپی جائے تو خیانت کرے‘‘۔ 
اس سے ملتی جلتی اور بھی متعدد روایتیں ہیں۔ 
لغت میں ’نفاق ‘ مکر و فریب کی ایک قسم کو کہتے ہیں یعنی بھلائی ظاہر کرنا اور دل میں برائی رکھنا۔ 
شریعت میں نفاق کی دو قسمیں ہیں: پہلی قسم ’نفاقِ اکبر‘ ہے یعنی انسان ظاہری طور پر اللہ تعالیٰ، اس کے ملائکہ اور کتابوں اوررسولوں نیز یوم آخرت پر ایمان لائے اور باطن میں اس کے برعکس چھپائے رکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں نفاق کی یہی قسم تھی۔ قرآن کریم نے ایسے ہی نفاق والوں کی مذمت کی اور انھیں کافر قرار دیتے ہوئے خبر دی کہ وہ جہنم کی نچلی سطح میں ڈالے جائیں گے۔ 
دوسری قسم ’نفاقِ اصغر‘ ہے، یہ عملی نفاق ہے یعنی انسان ظاہری طور پر نیک نظر آئے اور پوشیدہ طور پر اس کے برعکس ہو۔ مذکورہ بالا حدیث میں اسی قسم کے نفاق کی علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ 
جھوٹ اور وعدہ خلافی: پہلی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور خود اسے سچ نہ سمجھے۔ مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ ’’یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی بات کہو جو تم جھوٹ کہہ رہے ہو اور وہ تمہیں سچا سمجھے‘‘۔ 
حضرت حسن بصریؒ کہتے ہیں: کہا جاتا تھا کہ نفاق نام ہے ظاہر و باطن اور قول و عمل کے اختلاف کا۔ 
یہ بھی کہا جاتا تھا کہ نفاق کی بنیاد جھوٹ پر ہوتی ہے۔ 
دوسری علامت یہ بتائی گئی کہ جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے؛ یعنی کسی چیز کا وعدہ کرے تو اس کی نیت ہی یہ ہو کہ وہ اسے پورا نہیں کرے گا، چاہے انشاء اللہ ہی کہے۔ یا پھر وعدہ کرتے وقت تو نیت پورا کرنے کی ہو لیکن بعد میں بلا کسی عذر کے بدل جائے۔ ہاں اگر وعدہ کرلے اور پورا کرنے کی نیت بھی ہو لیکن کسی عذر کی وجہ سے ایسا نہ کرسکے تو کوئی حرج نہیں۔ 
حضرت عبدؓاللہ بن مسعود کا قول ہے کہ کوئی بچوں سے بھی ایسا وعدہ نہ کرے جو پورا نہ کرنا ہو۔ 
ابو داؤد میں حضرت عبدؓاللہ بن عامر کی روایت ہے (ضعیف سند کے ساتھ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے، میں اس وقت بچہ تھا، کھیلنے نکلا، میری والدہ نے مجھے یہ کہہ کر بلایا کہ یہاں آؤ؛ تمہیں کچھ دوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ’’کیا دینے کا ارادہ ہے؟‘‘ میری ماں نے کہا ، کھجور دینے کا ارادہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اگر ایسا نہ کیا تو تم پر جھوٹ لکھا جائے گا‘‘۔ 
زہری نے حضرت ابوہریرہؓ سے بھی اسی مفہوم کی روایت نقل کی ہے۔ 
گالی گلوج: تیسری علامت یہ بتائی گئی کہ جب بحث و مباحثہ کرے تو گالی گلوج کرے یا جان بوجھ کر حق کے خلاف کہے۔ 
صحیحین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ آدمی ضدی جھگڑالو ہے‘‘۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ’’تم میرے پاس تنازعے لاتے ہو، شاید ایسا بھی ہوتا ہو کہ تم میں کوئی اپنا معاملہ پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ثابت ہوتا ہو۔ میں تو جو سنتا ہوں اسی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں (تو جان لو کہ) میں نے جس کے حق میں ایسا فیصلہ کر دیا جس میں اس کے بھائی کا حق مارا گیا ہو تو وہ نہ لے، کیونکہ گویا اسے جہنم کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں‘‘۔ 
اب اگر آدمی اپنا موقف زیادہ زور دارانداز میں پیش کرنے کی صلاحیت ہے اور وہ اسے باطل کی کامیابی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔۔۔ چاہے دینی معاملے میں یا دنیاوی معاملے میں ۔۔۔ اور سننے والا اسے حق پر سمجھ رہا ہے جبکہ وہ حق کو کمزور کر رہا ہے تو بدترین قسم کا حرام اور نہایت بری منافقانہ خصلت ہوئی۔ 
ابو داؤد میں حضرت عبداللہ ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے جان بوجھ کر باطل کی وکالت کی وہ جب تک رجوع نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے‘‘۔ 
ایک دوسری روایت میں ہے: ’’جو کسی تنازع میں ظلم کی مدد کرے اس نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لی‘‘۔ 
غداری: چوتھی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ جب کوئی عہد و پیمان کرے تو اسے پورا نہ کرے جبکہ اللہ تعالیٰ نے عہد پورا کرنے کا حکم دیا ہے: ’’عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی پڑے گی‘‘۔ (بنی اسرائیل:34)
’’اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو‘‘۔ (النحل:91) 
’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں تو ان کیلئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا بلکہ ان کیلئے تو سخت دردناک سزا ہے‘‘۔ (آل عمران:77)
صحیحین میں حضرت عبداللہ ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر غدار کا قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا‘‘۔ 
اسی مفہوم کی روایت حضرت انسؓ اور حضرت ابو سعیدؓ سے بھی ہے۔ 
غداری اور عہد شکنی ہر ایک کے ساتھ حرام ہے چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمروؓ ابن العاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے ناحق کسی معاہدے والے کافر کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، جبکہ جنت کی خوش بو چالیس برس کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے‘‘۔ 
اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ساتھ بھی معاہدوں کی پابندی کا حکم دیا ہے، اگر وہ از خود معاہدہ شکنی نہ کریں۔ 
مسلمانوں کے باہمی معاہدوں کو پورا کرنے کی اور بھی زیادہ تاکید کی گئی ہے اور ان کو توڑنا اور بڑا گناہ ہے۔ 
ان معاہدوں میں کسی امام کی بیعت، لین دین کے معاہدے اور نکاح بھی شامل ہے، ان سب کا پورا کرنا ضروری ہے۔ 
خیانت: نفاق کی پانچویں علامت یہ بتائی گئی ہے کہ آدمی کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت کرلے، جبکہ امانت کی واپسی واجب ہے۔ 
’’اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جو جس کی امانت ہو اس کے حوالے کر دیا کرو‘‘۔ (النساء:58)
’’اے ایمان والو! ایسا نہ کرو کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کرو اور نہ یہ کہ آپس کی امانتوں میں خیانت کرو اور تم اس بات سے ناواقف نہیں ہو‘‘۔ (الانفال:27)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’حجۃ الوداع‘ کے خطبہ میں فرمایا: ’’جس کے پاس امانت ہو وہ امانت رکھنے والے کو لوٹائے‘‘۔ 
حضرت عبداللہؓ ابن مسعود کی روایت میں ہے کہ : اللہ کی راہ میں قتل ہوجانا ہر گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے، سوائے امانت کے۔ (قیامت کے دن) امانت والے کو لایا جائے گا اور حکم دیا جائے گا کہ اپنی امانت پوری کرو، وہ عرض کرے گا، اے رب؛ کہاں سے پوری کرو، دنیا تو جاچکی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’لے جاؤ اسے جہنم میں ڈال دو۔ وہ اس میں ڈال دیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کی تہ میں پہنچ جائے گا، وہاں وہ امانت کو جوں کا توں پائے گا تو اسے اٹھاکر اپنی گردن پر لاد لے گا اور جہنم کی آگ میں چڑھنا شروع کرے گا، یہاں تک کہ جب ایسا لگنے لگے گا کہ اب بس نکلنے ہی والا ہے وہ چھوٹ کر گر پڑے گی اور نیچے کی طرف لڑھکنے لگے گی، اسی کے پیچھے وہ بھی لڑھکنے لگے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے لڑھکتا چلا جائے گا۔ 
امانت نماز میں بھی ہے، روزے میں بھی اور گفتگو میں بھی لیکن سب سے زیادہ سخت معاملہ چیزوں کی امانت کا ہے۔ 
قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں بھی ان علامتوں کو نفاق سے تعبیر کیا گیا ہے۔ الغرض عملی نفاق ظاہر و باطن کے اختلاف پر مبنی ہوتا ہے۔ 
حضرت حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ دل و زبان کا اختلاف اور ظاہر و باطن کا اختلاف نفاق ہے۔ کچھ بزرگوں کو کہنا ہے کہ خشوع و خضوع کا نفاق یہ ہے کہ جسم پر ظاہر ہو اور دل میں نہ ہو۔ 
حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا: میں تمہارے تعلق سے سب سے زیادہ باخبر منافق سے ڈرتا ہوں۔ لوگوں نے عرض کیا، منافق باخبر کیسے ہوتا ہے؟ آپؓ نے فرمایا: ’’باتیں تو حکمت کی کرتا ہے اور عمل، ظلم اور برائی پر مبنی ہوتا ہے‘‘۔ (جاری) 
موبائل: 9831439068 azizabdul03@gmail.com 

Ads