Masarrat
Masarrat Urdu

تلمود کیا ہے جسے یہودی توریت سے زیادہ پڑھتے ہیں؟

Thumb

 

      مدت دراز سے میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر تلمود کتاب کیا ہے جسے ہر یہودی ہر جگہ (ایر پورٹ پر بھی) جھوم جھوم کر پڑھتے رہتے ہیں۔یوں تو اللہ نے حضرت موسی  پر توریت نازل فرمائی تھی مگر یہودی حضرات توریت سے زیادہ تلمود پڑھتے نظر آئے۔ہندوستان میں کافی تلاش کر نے کے باوجود مجھے کوئی کتاب نہیں ملی مگر امریکہ کی ایک لائبرری میں کچھ کتابیں مل گئیں۔ یہ مضمون انہیں کتابوں کا نچوڑ ہے۔  کہتے ہیں کہ یہودی اللہ کی کتاب والے لوگ ہیں مگر سچائی یہ ہے کہ انکے پاس دو کتابیں ہیں۔ ایک تو توریت جسے وہ اللہ کی دی ہوی کتاب مانتے ہیں اور دوسری تلمود ہے جو انسانوں کی لکھی ہوی ہے۔ جسے ہم ان کی حدیث تو نہیں کہہ سکتے مگر تلمود سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے۔ توریت میں اللہ کے احکامات،  ھدایات  اور رسومات ہیں۔ تلمود میں توریت کا  ایک حصہ ضرور موجود ہے مگر سب سے زیادہ حصہ مذہبی حضرات کے خیالات، انکی غور و فکر  اور انکے ڈبیٹوں کا خلاصہ ہے جو حکومت کر نے کے طریقے، سوسائٹی پر کنٹرول، مذہبی  رسومات ، خاندانوں کے اندر اور انکے درمیان تعلقات، معیشت،تعلیم و تربیت، زراعت کر نے کے طریقہ اورد یگر تمام معاملات کے متعلق معلومات ہیں۔یہ صرف ایک زمانے کے نہیں بلکہ ہر زمانے میں ہونے والے ڈبیٹ،  ریسرچ،خیالات  اور ھدایا ت کامجموعہ ہے۔اس میں میڈیسن،آسٹرونومی، جادوگری ، سیکس، ہنسی مذاق اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں کے متعلق معلومات ہیں۔یہ کتاب کئی جلدوں پر مشتعمل ہے جو ہزاروں برسوں میں لکھی گئی ہے۔ تلمود کا معنی Study or teaching ہے اور یہ یہودیوں کا مذہب ہے۔ یہ  36 جلدوں میں موجود ہے اور اس میں ایک ملین آٹھ سو ہزار الفاظ ہیں۔یہ وہ غور و فکر ہے جو تیسری سے پانچویں صدی میں بیبلان    Babylon     میں ہویں۔یہ اْن لوگوں کے الگ الگ عنوانوں پر کہے اور لکھے گئے خیالات ہیں جو صدیوں پر مشتعمل ہیں۔یہ صرف بحث و مباحثے ہیں جو کسی خاص نتیجہ پر نہیں پہنچتے۔ اسے کس نے لکھی  اور کس نے ایڈٹ کی اس پر اختلاف ہے اتفاق رائے نہیں ہے۔یہودیوں کی نظروں میں توریت کو اْس وقت تک سمجھنا مشکل ہے جب تک اس پر کافی غور و خوص نہیں کیا جاتا۔ اس میں بے شمار ڈھکے چھپے احکامات اور ھدایات ہیں۔ یہودیوں کا خیال ہے کہ اللہ توریت حضرت موسی کو دی، موسی نے   Jashua   ہارون کو اور انہوں نے قوم کے بڑوں کو، انہوں نے دوسرے پیغمبروں کو اور پیغمبروں نے عوام کو دی۔ یہودیوں کے اعتقاد کے مطابق ایک توریت وہ ہے جو اللہ نے حضرت موسی کے ہاتھوں میں تھمائی اور دوسری وہ جو لکھی ہوی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے موسی کو زبانی ھدایات  تھیں جو حضرت ہارون کے ذریعہ عوام تک پہنچیں۔ یہودیوں کے ہاں ربی  Rabbi  کا مطلب  استادTeacher  ہے۔تلمود یہودیوں کی ہزاروں برس کی تاریخ بھی ہے اور وہ تمام باتیں اور تکالیف ہیں جو انکے ساتھ پیش آئے، جو سلوک حکومت روم نے کیا اور الگ الگ فاتح اقوام نے  انکے ساتھ کیا۔ یہودی بیبلان  Babylon میں ہزاروں برس  سے رہ رہے ہیں مگر کئی مرتبہ حملہ آوروں نے انہیں وہاں سے اکھاڑ پھینکااور دوبارہ آباد کیا۔      میں یہودی دریاے   Euphrates  اور  Tigris   کے درمیان تھے اور اگر برسات نہ بھی ہوتی تو زراعت بہت اچھی ہوتی تھی۔ شروع میں تلمود   Babylon  میں لکھی گئی۔ ایک قیاس کے مطابق تلمود کو    Rav Ashi نے لکھی جو   428 قبل مسحی انتقال کر گئے۔ چونکہ تلمود کئی صدیوں کے ڈبیٹوں اور غور و فکر  اور ریسرچ کا مجموعہ ہے اس لئے اْس میں کئی  chapters الگ الگ زبانوں میں ہیں جیسے ہیبرو Hebru۔ ایرامک Aramicوغیرہ۔ کئی ملکوں کے کئی عیسائی بادشاہوں نے تلمود کو جلا دینے کا حکم صادر کر دیا اور کئی جگہ وہ جلا دی بھی گئیں۔یہودیوں کے عالم اور امام کو ربی      کہتے میں۔ مسلمانوں اور عیسائیوں میں مشکل سے    0.001  فیصد لوگوں نے تلمود پڑھی ہوگی۔ اس لئے وہ نہیں جانتے کہ تلمود میں کیا لکھا گیا ہے اور یہودیوں کو کیا سبق دیا گیا ہے۔ ایک یہودی عالم جو ملک رومانیہ سے آئے Mofswitz Potashnickh  انہوں نے اپنی کتاب                                       The History of the Jews   میں لکھا ہے کہ تلمود کے مطابق اگر کسی یہودی نے کسی غیر یہودی کو قتل کر دیا یا اسے دھوکا دے دیا تو وہ گناہ نہیں ہے مگر اگر کسی یہودی نے کسی دوسرے یہودی کو قتل کر دیا یا دھوکہ دے دیا تو وہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہی دنیا کے مالک اور اللہ کے خاص بندے ہیں اور باقی سب ان کے غلام ہیں جنہیں وہ جیسا چاہے سلوک کر سکتے ہیں۔جو یہودی آج اسرائیل میں جمع ہوے ہیں وہ سب  حضرت یعقوب علیہ اسلام کی  نسل سے نہیں ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کی اکثریت بے دین گریکس اوررومنس کی اولاد ہیں کیونکہ انہوں نے یہودیوں کی اکثریت کو مار کر ان کی عورتوں کو رکھ لیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کی یہودیوں کے مطابق یہودی وہ ہے جس کی ماں یا  نانی یا دادی، یا پڑ دادی یا پڑ نانی یہودی ہو۔  دوسری تمام قوموں میں باپ دادا کو گنا جاتا ہے۔آج ان کے پاس وہ توریت نہیں ہے جو اللہ نے اپنے نبی حضرت موسی پر اتاری تھی۔ جو کتاب آج ہے اس میں ان لوگوں نے اپنی پسند کے مطابق رد و بدل کر دیا ہے۔ یہ لوگ جس ملک میں بھی بسے اس ملک کے باشندوں نے ان کے عادات و اظوار کو دیکھ کر انہیں باہر نکال دیا ہے۔ یہ ہمیشہ ان کے ملک کی معیشت سے کھیلتے رہے اور انہیں کمزور کر نے میں لگے رہے۔ جرمنی کے نازیوں نے ان پر ظلم ضرور کئے اور لاکھوں کو قتل کر دیا۔ اس لئے یہ ضرور ہمدردی کے مستحق ہیں۔ مگر انہوں نے اپنی تکالیف کو بھلا دیا اور جب انہیں ایک ملک دیا گیا تو وہاں کے باشندوں پر وہی ظلم جائز رکھا جو ان کے ساتھ نازیوں نے اور دیگر یوروپی ممالک نے کیا۔ در اصل آج کے فلسطینی ہی پہلے کے اصل یہودی ہیں جو بعد میں اسلام قبول کر کے مسلمان ہو گئے۔ قتل و غارتگیری ان کا اہم مشغلہ بن چکا ہے۔ بد قسمتی سے اہل عرب مسلماانوں میں اتنی طاقت نہیں ہیے کہ وہ فلسطینی مسلمانوں کو ان کے ظلم سے بچا سکیں۔ یہی سبب ہے کہ فلسطینی اپنی لڑائی آپ لڑنے پر مجبور ہیں۔ یہودیوں میں بھی کچھ یہودی ایسے ہیں جو ان کے اس ظلم کو پسند نہیں کر تے اور کھلم کھلا اس کی مخالفت کرتے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔  یوں تو بہت سارے ہیں مگر کچھ تو نوبل انعام یافتہ ہیں اور کچھ اعلی تعلیم یافتہ بھی مثلاّپہلی صدی کے مشہور لکھنے والے رومن  marcus tullius Cicero ، دوسری صدی کے رومن تاریخ دان Dio Cassius ، گریک تاریخ دان Diodorus Sicul us         ، سولویں صدی کے Martin Luther ، آکسفورڈ یونیورسٹی کے یہودی پروفیسر گولڈن اسمتھOctober 1881   بیسویں صدی کے برٹش ڈرامہ نگار Shaw  George  Barnard        وغیرہ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان یہودیوں نے دوسروں کو ایسی پٹّی پڑھائی ہے کہ سب کے سب انہیں کے ہمدرد بن گئے ہیں۔  فلسطینیوں پر اور دوسرے عربوں پر ان کے ظلم و ستم کو دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ وہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جسے اللہ نے فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دیا تھا اور دریائے نیل کا سینہ چیر کر ان کے لئے راستہ بنایا تھا۔  یہ لوگ حضرت یعقوب اور حضرت موسی  کی نسل کے بلکل نہیں ہو سکتے۔                        

 فون:9980827221
 

 

Ads