Masarrat
Masarrat Urdu

اے مسلمان!اتنی عربی سیکھ کہ قرآن پاک سمجھ سکے

  • 01 Dec 2019
  • شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
  • مضامین
Thumb

 
آج کا مسلمان مسلسل پستی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ بُرا سلوک کرنے کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔ ہمارا خریدو فروخت کا نظام تباہی کا شکار ہوتا جارہا ہے اور ہم آپس میں بھی اور غیرمسلموں کے ساتھ میں بھی صحیح لین دین نہیں کررہے ہیں۔ مسلمان محلوں میں ”اتی کرمن“ کی لعنت بہت عام دکھائی دیتی ہے جبکہ غیر مسلم محلوں میں یہ لعنت نہیں دکھائی دیتی ہے۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان سے شکوہ شکایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہر مسلمان ہمارے اعمال کا رونا روتا ہے لیکن اعمال سُدھارنے کی کوئی کوشش نہیں کررہا ہے۔ اصلاح معاشرہ کے پروگراموں کا انعقاد بھی باقاعدگی سے کیا جاتا ہے۔ اِس کے باوجود مسلمان کا کردار صحیح نہیں ہوپارہا ہے۔ بہت سے علمائے کرام اور دانشوران نے یہ بھی بتایا کہ اِس کی سب سے بڑی وجہ ہماری قرآن پاک سے دُوری ہے۔ 
پریشانی کا حل قرآن پاک میں 
آج کا ہر مسلمان جس پریشانی میں مبتلا ہے اِس کا سب سے بہترین حل یہی ہے کہ ہر مسلمان قرآن پاک سے جُڑ جائے اور اُس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ اِس کے لئے اُسے قرآن پاک کو سمجھنا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا فرما رہے ہیں؟ ہمیں کون سے اعمال کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور کن اعمال سے منع کر رہے ہیں؟ ہمارا کردار کیسا بنانا چاہتے ہیں؟ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہمیں کیا سکھا رہے ہیں؟۔ہم پڑوسیوں، والدین، بھائی بہنوں، رشتہ داروں، محلے والوں، شہر والوں، ملک والوں، مسلمانوں اور غیرمسلموں کے ساتھ کیسا سلوک کریں؟ یہ بھی ہمیں قرآن پاک سے معلوم ہوگا۔ ہم اپنے معاشرے میں کس طرح ایک دوسرے کے کام آسکیں اور صالح معاشرے کی تشکیل کرسکیں؟ یہ بھی ہمیں قرآن پاک سے ہی معلوم ہوگا۔ غرض یہ کہ قرآن پاک میں ایک انسان کی انفرادی زندگی سے لیکر محلے کی اجتماعی زندگی، شہر کی اجتماعی زندگی، مُلک کی اجتماعی زندگی بلکہ پوری دنیا کی اجتماعی زندگی کامیابی سے اور خوشحالی سے گزارنے کی مکمل ہدایات بیان ہوئی ہیں۔اِن کے علاوہ بھی بہت سی اہم باتیں ہمیں قرآن پاک سے معلوم ہوگی۔ اِس طرح قرآن پاک میں ہماری دنیا اور آخرت کی ہر پریشانی کا حل موجود ہے۔
 قرآن پاک سے کس طرح حل معلوم کریں 
یہ تو ہمیں معلوم ہوگیا کہ ہماری ہر پریشانی کا حل قرآن پاک میں موجود ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ ہم اُس میں سے اپنی پریشانیوں کا حل کس طرح معلوم کریں؟ اِس کے کئی طریقے ہیں۔ (۱) پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنے اپنے مسلک کے علمائے کرام میں سے کسی عالم کے پاس جائے اور اُن سے قرآن پاک سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرے۔ (۲) اللہ کے فضل و کرم سے آج کل قرآن پاک کے لگ بھگ ہرزبان میں ہر مسلک کے علمائے کرام تراجم کررہے ہیں۔ ہر مسلمان اپنی زبان میں اپنے مسلک کے عالم کا کیا ہوا ترجمہ پڑھے اور قرآن پاک سمجھنے کی کوشش کرے۔ (۳) ہر مسلک کے علمائے کرام مسلسل ”درس قرآن“ کی مجالس منعقد کرتے رہے ہیں اِس لئے ہر مسلمان اپنے اپنے مسلک کی ”درس قرآن“ کی مجالس میں باقاعدگی سے شرکت کرے۔ (۴) ہر مسلمان اتنی عربی ضرور سیکھے کہ قرآن پاک کو سمجھ سکے کیونکہ جب وہ تلاوت کرنے بیٹھے گا اور تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ معنی سمجھتا بھی جائے گا تو اُس کی سمجھ میں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اُس سے کیا فرما رہے ہیں؟۔ عذاب کی آیت پر اُسے خوف ہوگا، بشارت کی آیت پر اُسے خوشی ہوگی اور اِس کے ساتھ ساتھ اللہ کے احکامات بھی سمجھ میں آئیں گے۔
 ہم بغیر سمجھے تلاوت کرتے ہیں 
اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ آج کل قرآن پاک کی زیادہ تر مسلمان تلاوت کر رہے ہیں اور ماہِ رمضان المبارک میں سماں ہی کچھ اور ہوجاتا ہے۔ مساجد میں اور گھروں میں تلاوت کا ایک سماں بندھا ہوتا ہے۔ بے شک تلاوت کرنے سے ہمیں ثواب ملتا ہے اور تلاوت کرتے وقت قرآن پاک ہمیں سمجھ میں آئے یا نہ آئے پھر بھی تلاوت ضرور کرنی چاہیئے۔ لیکن اِسی پر مطمئن نہیں ہوجانا چاہیئے بلکہ ہمیں بغیر سمجھے تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی کرنی چاہیئے کہ ہم قرآن پاک کو سمجھ سکیں۔ ہمیں قرآن پاک کی تلاوت مسلسل کرنا ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی کرنی ہے کہ  تلاوت کے دوران قرآن پاک سمجھتا بھی جائے۔ اِس کے لئے ہر مسلمان اپنے اپنے مسلک کے علمائے کرام کی مجلس میں شریک ہوکر فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ اپنے مسلک کے عالم کا اپنی زبان میں کیا ہوا ترجمہ حاصل کرکے اُس کے ذریعے سمجھ سکتا ہے اور خود بھی عربی سیکھ کر تلاوت کے دوران قرآن پاک کو سمجھ سکتا ہے۔ 
ہم عربی صرف پڑھنا سیکھتے ہیں 
اللہ کا شکر کے کہ ہر مسلمان بچپن سے ہی عربی پڑھنا سیکھتا ہے اور بالغ ہونے سے پہلے ہی قرآن پاک ختم کرلیتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ قرآن پاک ختم کرنے کے باوجود وہ یہ نہیں جانتا کہ اِس قرآن پاک میں بیان کی گئیں آیات کا مطلب کیا ہے؟۔اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم صرف عربی پڑھنا سیکھتے ہیں عربی زبان نہیں سیکھتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں؟۔ ہمیں اسکول میں جب انگلش یا دوسری کوئی بھی زبان سکھائی جاتی ہے تو اُسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا بھی سکھایا جاتا ہے۔ ہمیں انگلش الفاظ بتانے کے ساتھ ساتھ اُس کے معنی اور مفہوم بھی سکھائے جاتے ہیں اور عام بول چال، اُٹھنا، بیٹھنا، چلنا، دوڑنا وغیرہ کے انداز میں سکھائے جاتے ہیں تاکہ ہم آسانی سے اُس زبان کو سیکھ سکیں اور سمجھ سکیں۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ عربی زبان کو صرف پڑھنا سکھایا جاتا ہے۔ جس بچے نے قرآن پاک ختم کرلیا ہے، اُس نے عربی پڑھنا تو سیکھ لیا ہے لیکن اُسے عربی الفاظ کے معنی اور مفہوم نہیں معلوم ہوتے ہیں۔ جس طرح دوسری زبانوں کو سیکھنے اور سکھانے کے وقت پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا بھی سکھایا جاتا ہے وہ کام عربی زبان کے ساتھ کیوں نہیں کیا جاتا؟۔ یہ سوالیہ نشان ہم مسلمانوں کے لئے عام طور سے اور ہمارے علمائے کرام کے لئے خاص طور سے ”لمحہئ فکریہ“ ہے۔ 
عربی سیکھنے کے لئے کیا کریں 
ہم قرآن پاک کی تلاوت تو فرفر کر لیتے ہیں یعنی عربی زبان پڑھ لیتے ہیں لیکن اُسے سمجھ نہیں پاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ عربی زبان سیکھنے کے لئے ہم کیا کریں؟ جو حضرات نوجوان، جوان، ادھیڑ اور بوڑھے ہوچکے ہیں۔ وہ حضرات اپنے اپنے مسلک کے علمائے کرام سے، اُن کے اپنی زبان کے تراجم سے قرآن پاک سمجھنے کی کوشش کریں اور ساتھ ہی اتنی عربی بھی ضرور سیکھنے کی کوشش کریں کہ تلاوت کے وقت قرآن پاک سمجھ میں آسکے۔ اِس کے لئے ہر مسلک کے علمائے کرام اپنی مساجد میں ”تعلیم بالغاں“ کلاس جاری کرسکتے ہیں۔آج کل ”تعلیم بالغاں“ کچھ مساجد میں چل رہی ہیں لیکن وہ بہت کم ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر مسجد میں اِس کا نظم ہو، تاکہ ہر مسلمان قرآن پاک کو سمجھ کر تلاوت کرسکے۔
بچپن میں انسان جو چیز یاد کر لیتا ہے یا سمجھ لیتا ہے تو وہ چیز اُسے زندگی بھر یاد رہتی ہے اور اُس چیز کے بارے میں دوبارہ سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اِسی لئے ہمارے بزرگ ہمیں بچپن میں ہی قرآن پاک پڑھنا سکھاتے ہیں اور اسکول بھیجتے ہیں۔ علمائے کرام اور معلمین سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ آپ حضرات بچوں کو عربی الفاظ سکھانے کے ساتھ ساتھ اُن کے اُردو معنی بھی یا جو بچے کی مادری زبان یا علاقائی زبان ہو اُس میں اُسے معنی بھی بتاتے جائیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ بچوں سے ہلکی پھلکی عربی بول چال بھی کرتے جائیں اور بچوں سے کہیں کہ وہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ بھی عربی بول چال کریں۔ مسلمان والدین سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے گھروں میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ عربی زبان بول چال میں استعمال کریں۔ اُردو زبان والوں کو تو بہت ہی آسانی ہے کیونکہ ہماری اُردو زبان میں لگ بھگ ساٹھ فیصد 60% الفاظ عربی زبان کے ہیں۔ 
گرامر سیکھنا ضروری نہیں 
جب ہم کسی زبان کو سیکھنے کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارا پہلا خیال اُسی طرف جاتا ہے کہ ہمیں پہلے اُس زبان کا گرامر سیکھ لینا چاہیئے۔ پھرجب ہم گرامر سیکھنا شروع کرتے ہیں تو اُسی میں زیادہ تر لوگ اٹک جاتے ہیں اور ہمت ہار دیتے ہیں اور بہت کم لوگ گرامر سمجھ کر اُس زبان کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔ ہمیں عربی زبان سیکھنے کے لئے گرامر سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ عربی الفاظ معنی سیکھنے ہیں وہ بھی پورے نہیں ضرورت کے مطابق سیکھنے ہیں۔ اِس کے لئے ہم سب سے پہلے اپنے گھروں میں، مدارس میں، مساجد میں اور معاشرے میں یعنی ہمارے دوست احباب وغیرہ کی مجلسوں میں آپس میں ہلکی پھلکی عربی بول چال شروع کریں۔ جب ہم ضروری چند الفاظ کے معنی سیکھ کرمسلسل عربی بول چال کو شروع کریں گے تو ایک دوسرے سے ہمیں باقی کے دوسرے ضروری الفاظ کے معنی معلوم اور یاد ہوتے جائیں گے اور ساتھ ہی معنی بھی سمجھ میں آتے جائیں گے۔ اِس کی مثال ہمارے گھروں میں پیدا ہونے والے بچے ہیں۔ ہم اُن بچوں کو ہماری مادری زبان کی گرامر نہیں سکھاتے ہیں بلکہ اُس کے سامنے مسلسل ہماری مادری زبان کے الفاظ دہراتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی اشاروں سے معنی بھی سمجھاتے جاتے ہیں اور اُس لفظ کی یا چیز کی پہچان بھی کراتے جاتے ہیں۔ ہماری مہینوں کی مسلسل کوشش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا بچہ جب بولنے لگتا ہے تو بغیر الفاظ معنی سمجھائے ہماری مادری زبان بولنے لگتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ گرامر کا بھی بالکل صحیح استعمال کرتا ہے جبکہ وہ گرامر کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ہے۔ 
عربی سیکھنے کے بے شمار فوائد
عربی زبان سیکھنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوگا کہ ہمارے رب اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے جو کتاب قرآن پاک ہمیں عطا فرمائی ہے اُسے ہم سمجھنے لگیں گے۔ جس کی وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے فرمانبردار بن جائیں گے اور ہمیں دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیابی حاصل ہوگی۔ دوسری بات یہ کہ ہم اپنے غیر مسلم بھائیوں کو بھی اللہ کا پیغام پہنچائیں گے۔ ابھی ہمیں خود یہ معلوم نہیں ہے کہ ہمارا اللہ اُس کی کتاب قرآن پاک میں ہم سے کیا فرما رہا ہے۔ لیکن جب ہم اِس بات کو سمجھنے لگیں گے تو ہمارے اندر یہ جذبہ انشاء اللہ پیدا ہوگا کہ اتنی بہترین بات ہم صرف اپنے تک کیوں محدود رکھیں؟ بلکہ اِس بات کو دوسروں تک پہنچائیں تاکہ وہ بھی اِس سے مستفید ہوسکیں۔ یہاں یہ بات اچھی طرح سے یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ ہم اللہ کے دین کو غیروں تک پہنچائیں۔ اگر ہم اِس کام کو نہیں کریں گے تو قیامت کے دن ہمارے زمانے کے غیرمسلم ہمیں پکڑیں گے اور اللہ تعالیٰ بھی ہم سے اِس بارے میں سوال کریں گے۔ 
سمجھنے کے بعد عمل کرنا آسان ہوتا ہے
آج ہم عربی زبان نہیں سمجھتے ہیں اور اِس کی وجہ سے ہماری عبادات، وظائف اور تسبیحات میں ہمیں وہ لُطف نہیں آتا جو آنا چاہیئے۔ کیونکہ ہم صرف الفاظ پڑھتے ہیں وہ ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتے ہیں۔ جب ہم عربی زبان سیکھ لیں گے تو نماز میں جو الفاظ ہم ادا کرتے ہیں اُن سب کے معنی ہمیں سمجھ میں آئیں گے تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے کیا عرض کررہے ہیں۔ اِس کا ثبوت ہمیں اُس وقت ملتا ہے جب مسجد میں امام صاحب دُعا مانگتے ہیں۔ جب تک امام صاحب عربی زبان میں دُعا مانگتے رہتے ہیں تب تک کچھ مخصوص لوگ دھیمی آواز میں ”آمین“ کہتے ہیں لیکن جیسے ہی امام صاحب اُردو میں دُعا مانگنا شروع کرتے ہیں تو لگ بھگ پوری مسجد میں موجود ہر شخص ”آمین“ کہتا ہے اور پوری مسجد گونج اُٹھتی ہے۔اِسی طرح جب ہمیں یہ سمجھ میں آئے گا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے کیا بات کررہے ہیں تو ہمارے اندر خشوع و خضوع پیدا ہوگا اور نماز پڑھنے میں ہمیں اتنا لطف آئے گا کہ ہم خود ہی نماز کی طرف مائل ہونگے اور پابندی کریں گے۔ جس طرح علمائے کرام ہمیں نماز میں بلانے کے لئے جہد مسلسل میں لگے رہتے ہیں اُس سے انہیں نجات ملے گی اور وہ اِس سے آگے کے بارے میں بھی غوروفکر کریں اور اور آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ اِس کے علاوہ ہمیں وظائف اور تسبیحات میں بھی لطف آنے لگے گا اور سب سے بڑا فائد ہ یہ ہوگا کہ ہمیں قرآن پاک سمجھنے لگے گا اور ہم قرآن پاک کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں گے۔ جب ہر مسلمان قرآن پاک کے مطابق زندگی گزارنے والا بن جائے گا تو معاشرے کی اصلاح خودبخود ہوجائے گی اور ایک ”صالح معاشرہ“ انشاء اللہ وجود میں آئے گا جس میں تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہوں گے اور مسلک سے اُوپر اُٹھ کر ایکدوسرے کے دکھ در د میں کام آئیں گے۔
مدارس میں عربی زبان 
راقم الحروف نے اِس معاملے میں ایک مدرسے کے ناظم (ہیڈ ماسٹر) سے بات کی تو اُنہوں نے ایک ایسی بات کی طرف توجہ دلائی جو بہت ہی اہم ہے۔ اُنہوں نے کہا:”آج اگر ہم مسلمانوں کا سروے کریں تو ہمیں صرف دس 10% فیصد مسلمان ہی ”عربی داں“ نظر آئیں گے اور نوے 90% فیصد مسلمان عربی سے نابلد نظر آئیں گے“۔ اِس لئے تمام مسلک کے علمائے کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے مسلک کے مدارس میں لگ بھگ ہر بچے کو عربی زبان سکھانے کا اور بول چال کا ضرور اہتمام کریں۔ یہ تمام علمائے کرام کا ”ا‘مت ِ مسکمہ“ کی نئی نسل ہر ”احسان َ عظیم“ ہوگا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مدارس سے ”معلم“ اور ”معلمات“ یعنی عربی زبان کے ٹیچر نکلیں گے جو نئی نسل ”ناضرہ“ کے ساتھ ساتھ  عربی زبان سکھائیں گے۔اِس کے ساتھ ساتھ بالغ حضرات بھی اُن سے مستفید ہوسکیں گے۔ اِس کے لئے پورے ملک ہندوستان کے مسلمان دانشوران سے گزارش ہے کہ وہ اِس مسئلے پر اپنے اپنے علاقوں میں مل بیٹھ کر غور وفکر کریں اور اِس کا حل نکالیں۔ تاکہ اُمت مسلمہ ”قرآن پاک“ کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل ہوسکے۔    

Ads