Masarrat
Masarrat Urdu

یتیم خانہ اسلامیہ کلکتہ کل اور آج

Thumb


عبدالعزیز
آج کے مسلم اداروں پر جب تبصرہ کا ارادہ ہوا تو ہر ایک مضمون جو کلکتہ کے پانچ مسلم اداروں پر 1976ء میں ہفتہ وار ’’تحریک ملت‘‘ کیلئے لکھا گیا تھا اسے پہلے پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد آج کے حالات پر مختصر تبصرہ پیش کیا جائے گا۔ 
مولوی ابوالحسن خانصاحب نے یتیم خانہ اسلامیہ کلکتہ کو قائم کیا تھا۔ یہ ادارہ 1891ء میں بنیا پوکھر روڈ کے کرایہ کے مکان سے قائم کیا گیا تھا۔ یتیم بچوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ یتیم خانہ میکلوڈ اسٹریٹ کے ایک بڑے مکان میں منتقل کردیا گیا۔ یہ جگہ بھی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر کم ثابت ہوئی؛ چنانچہ جناب سیٹھ اسماعیل صاحب نے وقف کے ذریعہ ایک بیگھہ زمین یتیم خانہ کیلئے لکھ دیا۔ جس پر آج یتیم خانہ کی عمارت کھڑی ہے۔ 
کلکتہ میں اس ادارے کو مسلمان سب سے زیادہ مدد کرتے ہیں اور اس کے پاس دوسرے مسلم اداروں سے زیادہ جائداد ہے۔ یتیم خانہ اسلامیہ ایک بڑا ادارہ ہے اور اس میں کئی سو یتیم بچے پرورش ہی نہیں تعلیم و تربیت بھی پاتے ہیں۔ سی ایم اور ہائی اسکول یتیم خانہ ہی کی عمارت میں قائم ہے۔ اسی عمارت میں لڑکیوں کا الگ اسکول چل رہا ہے۔ اس طرح یتیم خانہ اسلامیہ کا قدم بڑھتا رہا لیکن جس تیزی کے ساتھ بڑھنا چاہئے اور جس خوبی کے ساتھ بڑھنا چاہئے وہ بات اب تک نہ ہوسکی۔ یتیم خانہ آج بھی کئی لاکھ کی پروپرٹی (Property) حاصل کرنے کے باوجود یتیم خانہ ہی نظر آتا ہے۔ اس کی دیواریں بتاتی ہیں کہ یہ یتیم خانہ کی عمارت ہے۔ اس میں رہنے والے چھوٹے بڑے بچوں کے کپڑوں اور رہن سہن سے یہ یتیم خانہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ 
مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ یتیم خانہ اسلام میں ایک مستقل چیز ہے لیکن اسلام کی روح سے یہ فکر ہٹی ہوئی ہے۔ یتیم خانہ ایک غیر مستقل چیز ہے۔ اس یتیم خانہ کو دوسری عمارتوں سے زیادہ خوبصورت ہونا چاہئے تھا۔ اس کا نام یتیم خانہ کے بجائے کچھ اور ہونا چاہئے تھا۔ اس کے اندر جو کھانے پینے کی چیزیں بچوں کو دی جاتی ہیں اس کا معیار بڑھنا ہی چاہئے تھاتاکہ اس کے صحن میں ٹہلتے پھرتے بچے یتیم دکھائی نہ دیں۔ دہلی میں بھی خانہ ہے لیکن اس کا نام ’’بچوں کا گھر‘‘ ہے ۔ یتیم بچے جب کھیلتے اور پڑھتے ہیں تو وہ یتیم دکھائی نہیں دیتے بلکہ عام بچوں کی طرح ہی نظر آتے ہیں۔ یتیم اور مفلوک الحال نہیں دکھائی دیتے۔ 
غیر مستقل سے میری مراد یہ ہے کہ اسلام میں بھکاری کو بھکاری بنے رہنے پر نہیں اکساتا بلکہ بھکاری کی مدد کرنے کو اس مقصد کے ساتھ کہتا ہے کہ مدد کرنے والے اس کی مدد اس قدر کردیں کہ آئندہ سال اس بھکاری کی رقم بیت المال میں زکوٰۃ کے طور پر آئے اور وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے،بلکہ دوسرے جو اس کے سامنے ہاتھ پھیلائیں ان کا ہاتھ وہ اس طرح بھردے کہ آئندہ وہ دوسروں کے ہاتھ بھرنے کے لائق ہوجائیں۔ بے سہارا بچوں کو بھکاری بناکر رکھنا، یتیم کی سی حالت میں بچوں کو رکھنا یہ امیرانہ مزاج کے مطابق تو ضرور ہے لیکن اسلام اس مزاج کا مخالف ہے۔ 
بدلی ہوئی حالت کا تذکرہ۔1976)ء(: اس ادارہ کی انتظامیہ میں جو لوگ شریک ہیں اس میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو عبادت کی غرض سے شامل ہیں بلکہ زیادہ تر سیاست کی غرض سے یتیم خانہ سے چمٹے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے جس سکریٹری کو منتخب کیا ہے، اس سے عام طور پر یتیم خانہ کے بچے خوش نہیں ہیں۔ ان بچوں میں سے بہتیرے ایسے ہیں جن کو دو سال پہلے میں نے پڑھایا ہے۔ میں نے کلاس میں جاکر دیکھا ہے کہ بہت سے بچوں کے پاس کتابیں نہیں ہیں۔ بہت سے ایسے بچے ہیں جو کاپیوں سے محروم ہیں۔ میں نے بعض بچوں سے جب پوچھا تو جواب میں بچوں نے ہم آواز ہوکر کہا کہ سکریٹری صاحب نے ابھی نہ کتابیں دی ہیں اور نہ پیسے دیئے ہیں۔ اس لئے ہم لوگ مجبور ہیں۔ سکریٹری صاحب کو جب فون کیا تو انھوں نے تلخ لہجہ میں جواب دیا کہ یہ ہمارا کام ہے، اس میں آپ مداخلت نہ کیجئے۔ 
کئی بار فیس کے موقع پر دیکھا کہ ہیڈ ماسٹر صاحب جناب منصور ملک نے بچوں سے کہاکہ کل فیس ضرور لے کر آنا نہیں تو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے کئی بار خود میرے سامنے سکریٹری کو فون کیا کہ ابھی تک فیس جمع نہیں کی گئی۔ یہ اسکول کے اصول کے خلاف ہے۔ اس طرح سی ایم او ہائی اسکول کے کسی کلاس میں جانے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ایک دو یتیم بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کیا اسلام یہ چاہتا ہے کہ بچے صورتاً یتیم دکھائی دیں۔ 
اس صحبت میں اس سے زیادہ لب کشائی کرنا پسند نہیں کرتے۔ صرف انتظامیہ کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ انتظامیہ ان مشوروں پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ 
*یتیم خانہ اسلامیہ یتیم بچوں اور بچیوں کی نگہداشت اور پرورش و پرداخت کیلئے قائم کیا گیا ہے۔ اگر یتیم بچے خوش پوش، خوش انداز نہیں دکھائی دیتے ہیں تو یہ یتیم خانہ کیلئے بدنامی کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا یتیم خانہ کے کسی صدر یا سکریٹری سے زیادہ اہمیت بچے سے زیادہ اہمیت بچے اور بچیوں کی ہے۔ اس لئے کہ یہ سکریٹری اور صدر یا نائب صدر کا ادارہ نہیں، یہ یتیم بچوں کا گھر ہے۔ اس میں جو بھی عہدیداران ہیں وہ صرف ولی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بچوں سے جاکر شکایتیں معلوم کریں۔ ان شکایتوں کو مجلس انتظامیہ کی میٹنگ میں رکھیں اور اسے رفع کرنے کی کوشش کریں۔ 
* یتیم خانہ میں اسٹاف اور انتظامیہ کی میٹنگ بھی سہ ماہی کم سے کم ہونا چاہئے کہ اسٹاف اپنی مشکلات کھلے دل سے بتاسکیں اور وہ کیوں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے ہیں اس کا بھی اظہار کرسکیں، تاکہ کام میں رکاوٹ نہ ہو۔ 
* چھ ماہ یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ میں ایک ایسی میٹنگ ہونی چاہئے جس میں ایسے لوگوں کو بھی بلایا جائے جو مجلس انتظامیہ میں نہیں ہیں، لیکن یتیم خانہ خیر خواہ ہیں، عہدہ پرستی سے، عہدہ داری سے دور رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ جائزہ لے کر یتیم خانہ کی ترقی اور بچے اور بچیوں کی ترقی کیلئے مشورہ کریں۔ 
* یتیم خانہ کے بچے بچیوں کے رشتہ داروں کو بھی سال میں ایک بار بلایا جائے۔ ان کی توجہ دلائی جائے کہ آپ اپنے عزیز بچوں یا بچیوں کی دیکھ بھال کا بار اٹھائیں۔ اسلامی معاشرہ میں یتیم خانہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بگڑے ہوئے مسلم معاشرہ میں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام کی اسپرٹ کچھ اس طرح ہے کہ اگر کسی کے خاندان میں کوئی بچہ یتیم ہوجاتا ہے تو خاندان کے ایسے شخص پر فرض ہے کہ وہ اس یتیم بچہ کی پرورش کرے جو اس کی پرورش کی اہلیت رکھتا ہے ۔ بگڑے ہوئے مسلم معاشرہ میں یہ جذبہ مفقود ہوتا ہے۔ اگر یہ جذبہ پیدا ہوجائے تو یتیم خانہ کی عمارتیں نہ دکھائی دیں اور نہ کوئی اپنے آپ کو یتیم محسوس کرے۔ 
* ان نکات کے علاوہ دوسرے نکات بھی لکھے جاسکتے ہیں، بشرطیکہ یتیم خانہ کے صاحب اثر اس کی اہمیت محسوس کریں۔ اوپر کی باتیں اس جذبہ سے لکھی گئی ہیں کہ مجلس انتظامیہ کے علاوہ یتیم خانہ کے دوسرے خیر خواہوں کو بھی علم ہو اور اس کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ 
کوئی بزرگ ان باتوں کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھتے ہوں تو ان سے میری گزارش ہے کہ وہ ان باتوں سے نہ ڈریں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں۔ جس کے سامنے آج نہیں تو کل انھیں یتیم خانہ کی رپورٹ اور اپنی زندگی کی رپورٹ پیش کرنی ہے۔ (تحریک ملت: 19 مارچ 1976ء)
16 نومبر 2018ء کی تحریر: یہ کل کی باتیں تھیں جو تقریباً 42سال پہلے لکھی گئی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت کانگریس کی حکومت مرکز میں تھی اور ریاست مغربی بنگال میں بھی لیکن کانگریس پارٹی کا رجحان مسلم اداروں پر قبضہ جمانے اور اس سے دنیاوی مفاد حاصل کرنے کا نہیں تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کا ذہن جو لوگ سماج میں کام کرتے تھے زیادہ تر کانگریس کی طرف تھا۔ اس کے باوجود دوسرے ذہن کے لوگ بھی مسلم اداروں میں رہتے تھے اور مل جل کر کام کرتے تھے۔
خاکسار نے یتیم خانہ اسلامیہ کلکتہ کے اسکول سی ایم او ہائی اسکول میں پڑھا اور پڑھایا ہے۔غالباً بزمی صاحب یتیم خانے کے سکریٹری تھے ۔ ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں تھا اچھے شاعر، ادیب اور اچھے انسان تھے۔ سماج میں ان کا اچھا خاصہ مقام تھا۔ محترم عبدالمجید اور سالک لکھنوی صاحبان یتیم خانہ اسلامیہ اور سی ایم او ہائی اسکول سے جڑے ہوئے تھے۔ سالک صاحب اشتراکی ذہن کے تھے اور سی پی ایم سے ان کا تعلق تھا ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سی ایم او ہائی اسکول کے درجہ دہم کے طلبہ کے ایک وفد سے جس میں خاکسار بھی تھا سالک صاحب نے کہا کہ میں سی ایم او ہائی اسکول کا سکریٹری ہوں مگر وقت نہیں دے پا رہا ہوں، اس لئے عبدالمجید صاحب کو اپنی جگہ پر لانے کی کوشش کروں گا۔ محترم عبدالمجید صاحب سی ایم او ہائی اسکول کے سکریٹری بنا دیئے گئے۔ موصوف کئی اداروں کے سکریٹری تھے مگر بغیر کسی ذاتی اغراض و مفاد کے خدمت خلق کے جذبہ سے کام کرتے تھے۔ نہ شہرت طلبی تھی نہ کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ سرکاری ملازمت کرتے تھے۔ بہت دنوں تک راشننگ افسر تھے۔ اس طرح کی بہت سی پرانی باتیں ہیں جس میں خاص بات یہ تھی کہ مسلم اداروں پر کسی سیاسی پارٹی کا قبضہ نہیں تھا اور نہ ادارے میں شامل افراد کی نظر کسی منصب کسی عہدے پر تھی ۔ وہ اپنے اپنے دائرے میں رہ کر عام لوگوں کی زندگیاں بدلنا چاہتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ خلق خدا کی خدمت بھی عبادت ہے۔ 
سی پی ایم کے زمانے میں مسلم اداروں پر قبضہ کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔ سی پی ایم کے لوگ مسجد کمیٹیوں اور زکوٰۃ کمیٹیوں تک میں رہنا پارٹی کا فائدہ سمجھتے تھے اور پارٹی بھی اسی عمل کو بہتر سمجھتی تھی۔ سی پی ایم کے بعد یہ رجحان مزید بڑھ گیا۔ پہلے سی پی ایم کے کئی کارکن اور لیڈر الگ الگ اداروں میں تھے۔ اب ترنمول کے زمانے میں ایک ہی شخص یا ایک ہی خاندان کے لوگ ہر ادارے میں کسی خاص وجہ سے شامل ہونے لگے۔ اس طرح مسلمانوں کے فلاحی یا تعلیمی ادارے سیاستدانوں کا ادارہ ہوگیا اور باقاعدہ اوپر سے ان کو ہدایت ملنے لگی کہ پارٹی کے اشارہ اور ہدایت پر چلنا ہوگا۔ بعض دفعہ اعلیٰ کمان کا اشارہ بھی ہوتا ہے کہ فلاں ادارہ میں فلاں اور فلاں ادارہ میں فلاں، اس طرح ملت کا ادارہ سیاسی پارٹی کا ادارہ ہوگیا، جس طرح سیاسی پارٹیوں سے شرفاء دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں ٹھیک اب ان اداروں سے بھی دور رہنے کی کوشش کرنے لگے۔
ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے کہ ایک ہی پارٹی کے دو گروپ کے لیڈر یا افراد نے ایک فلاحی ادارہ پر قبضہ حاصل کرنے کیلئے الیکشن کچھ اس طرح لڑے جیسے اسمبلی یا پارلیمنٹ کا الیکشن لڑا جارہا ہو۔ ہائی کمان نے کسی وجہ سے ان شیروں کو آپس میں لڑنے کیلئے چھوڑ دیا تھا۔ خاکسار نے اس وقت اس واقعہ کو افسوسناک اور شرمناک بتایا تھا۔ اس طرح کی کوئی مثال کسی اور پارٹی کی حکومت میں نہیں ملتی ہے۔ 
ضرورت ہے کہ اچھے پڑھے لکھے لوگ آگے آئیں۔ اگ ان اداروں میں ان کا بس نہ چلے تو چھوٹے ہی پیمانے پر فلاحی اور تعلیمی ادارے کی تشکیل کریں تاکہ ملت کے اندر خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہو اور جو لوگ سیاست زدہ ہوگئے ہیں ان کو بھی نصیحت حاصل ہو اور مثال دکھائی دینے لگے کہ خدمت خلق کا کام کس خلوص اور جذبے سے کیا جاتا ہے۔ 
مسلمان اچھی طرح سے واقف ہیں کہ جو لوگ شہرت اور نمود و نمائش کے جذبہ سے خواہ کسی بھی عنوان سے کام کرتے ہیں، یہاں تک کہ تعلیم، سخاوت یا جہاد جیسا عظیم کام یہ سب آخرت میں اکارت ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ روز حشر میں ایسے لوگوں دے مخاطب ہوگا کہ تمہیں دنیا میں جو ملنا تھا مل گیا، تم دنیا کیلئے ہی کرتے تھے، آخرت میں تمہارے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کے کام جو لوگ بھی کرتے ہیں اللہ کے نزدیک ہر گز پسندیدہ نہیں ہے اور نہ ہی کارِ ثواب کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ایسا کام شرک کہلاتا ہے اور شرک گناہ عظیم اور ظلم عظیم ہے۔ 
E-mail:azizabdul03@gmail.com

Mob:9831439068
 

Ads