انگریزوں کے حکومت واقتدار سے یہ چھٹکارا جو ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان کے باشندوں اور اس سے بارہ گھنٹہ پہلے اک نئی مملکت پاکستان کو حاصل ہوا تھا، بہت لمبی، بہت ہی زیادہ خوں فشاں اور بہت ہی تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرنے کے بعد ہوا تھا، جس میں ہزاروں ، لاکھوں انسانوں نے جیلیں کاٹیں، مصیبتیں بھریں، کال کوٹھریوں میں رہے اور پھانسی کے پھندے چومے۔ عام طورپر یہ سمجھا اور کہا جاتاہے کہ اس کا سہرا کانگریس کے سر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۲۰ء کے بعد کانگریس کے بہت سے رہنماؤں نے اس میں حصہ لیا اور بعد میں کانگریس نے اس کو اپنا بڑا مقصد بنا لیاتھا، مگر یہ سمجھنا سراسر غلط ہے کہ اس جدوجہد کا آغاز کانگریس نے کیاتھا۔ صحیح یہ ہے کہ اس ملک کے عوام کو بیدار کرنے، ہندومسلم اتحاد کا نعرہ لگانے اور سب کو اکٹھاہوکر، میدانوں اور سڑکوں پر لانے کاکام، کانگریس سے بہت پہلے تحریک خلافت کرچکی تھی۔ اس لئے آزادی کی یہ آوازسچائی یہ ہے کہ تحریک خلافت کی دین ہے، جس کا گاندھی جی، پنڈت نہرو اور دوسرے کانگریسی رہنما، اپنی کتابوں میں اعتراف بھی کرچکے ہیں۔ آزادی کی پہلی آواز تحریک خلافت کے ذریعہ بلند ہوئی اور اسی نے اس ملک کی تمام قوموں اور طبقوں کو حرکت میں لانے، بلکہ انگریزی استعمار ونظام سے ٹکرانے کا حوصلہ دیا، افسوس کہ بعد میں دوسروں بلکہ خود مسلمانوں نے بھی، تحریک خلافت اس کی خدمات اور اس کے جذبۂ ایثار کو بھلادیا۔
ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی ابتداء، تحریک خلافت سے ہوئی تھی، کانگریس کی عدم تعاون [Non cooperation] تحریک اس کے بہت بعد کی بات ہے۔ اس کی پہلی آواز اوراس کے لئے پہلی جدوجہد، تحریک خلافت کے رہنماؤں کی دعوت پر، یکم اگست ۱۹۲۰ء کو پورے ملک میں جلسے کرنے، عوام سے تجاویز منظور کرنے اور اجتماعی کوششیں کرنے سے ہوئی تھی، جو غالباً تحریک آزادی ہند کے سلسلہ کی، اس دور کی سب سے بڑی کڑی ہے۔ اس سلسلہ میں جو اشتہار واعلان شائع ہوا تھا، اس پر سب سے پہلے دستخط گاندھی جی کے ہیں،ایم کے گاندھی مسلم رہنماؤں میں سے ابوالکلام آزاد، مولاناشوکت علی، احمد حاجی صدیق کھتری، ڈاکٹرسیف الدین کچلو، مولانافضل الحسن حسرت موہانی،مولانا محمد علی [جوہر] کے اس پر دستخط ہیں۔ یہ اشتہار بمبئی سے[ممبران مجلس ترک موالات وعدم اشتراک مہرمنش ماؤنٹ روڈ۔ مجگام، بمبئی] کی جانب سے شائع ہوا تھا۔
یہ اشتہاربڑے اخبارات سائز پر چھپاتھا اور پورے ملک میں تقسیم ہوا تھا، بعد میںیہ اشتہار بالکل ناپید ہوگیا، تحریک خلافت پر مشہور کتابوں میں بھی، اس کا تذکرہ نہیں ہے۔اس کی ایک کاپی ہمارے ذخیرہ میں محفوظ ہے۔ اس لئے یہ تاریخی یادگار جو ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، اٹھانوے سال بعد دوبارہ شائع کی جارہی ہے، اس سے معلوم ہورہاہے کہ اس وقت کی سیاست کا کیا طریقہ اور کیا انداز تھا، بہرحال اسے پڑھئے، دیکھئے، یاد رکھئے اوراس سے سبق حاصل کیجئے۔
۱۹۲۰ء کی ایک اہم تاریخی یادگار
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
اللّٰہ اکبر
اور
مسلمانان ہند کی غیرت دینی وملی اور برادران ہنود کی حمیت قومی وملکیکا امتحان
ترک موالات اسلام کی ایک سنت جلیلہ ہے، جس کا بنیادی پتھر ۹ھ میں رکھاگیاتھااوراسی کو اسلام آج پھر زندہ کرنے اٹھا ہے، رومیوں نے جو اس عہد کی سب سے زیادہ متمدن قوم تھی، مسلمانوں پر حملہ کی تیاریاں کیں، دفاع میں حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک لشکر تیار کیا ، کعب بن مالک، ہلال بن امیہ، مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم محض کسل وتساہل کی وجہ سے لشکر اسلام میں شامل نہ ہوسکے، ان کی یہ کاہلی وسستی خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جرم قرار پائی او رایسا جرم قرار پائی کہ جب یہ حضرات بارگاہ رسالت میں معذرت کے لئے حاضر ہوئے تو وہ قبول نہ کی گئی اور تمام مسلمانوں نے ان سے اپنے تعلقات قطع کرلئے، کعب بن مالک اپنے ایک چچا زاد بھائی ابوقتادہ سے ملنے گئے تو انہوں نے بھی منہ پھیر لیا۔ حضرت کعبؓ ایک جلیل القدر صحابی اور جماعت انصار میں سے تھے اور طرح طرح کی اسلامی خدمات انجام دے چکے تھے، مگر اس ایک فرض الٰہی سے ذرا سی غفلت برتنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ سارے مدینہ میں وہ دیوانہ وار پھرتے تھے، مگر کوئی ان سے بات چیت کا روادار نہ تھا، خود ان کا بیان ہے کہ’’تمام مدینہ انسانوں سے بھرا ہوا تھا مگر میرے لئے ایک آنکھ نہ تھی جو دیکھ سکے اور کوئی زبان نہ تھی جو بات کرسکے۔ [بخاری شریف]
یہ ترک موالات اس وقت مسلمانوں کا مسلمانوں سے تھا، اب اس کی ضرورت ان لوگوں سے لاحق ہوئی ہے جنہوں نے اسلام پر ایک کاری ضرب لگائی ہے، اماکن مقدسہ کو خلیفۃ المسلمین کے قبضہ سے نکالے جانے کی بری سعی کی ہے، جزیرۃ العرب کو مسیحی طاقتوں کے ماتحت وزیر اثر لائے جانے کے متعلق جدوجہد کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا، اسلام کو تمام شرعی وآئینی اختیارات سے محروم کئے جانے کاقطعی طورپر فیصلہ کرلیا ہے، خلاصہ یہ کہ بمصداق’’ قَدْبَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ وَمَاتُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ‘‘ [ترجمہ: بغض وکینہ ان کی باتوں سے ظاہر ہوچکا او رجو کچھ ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے]............[اصل میں کٹا ہوا ہے]کرنے کے لئے وہ جو کچھ کرسکتے تھے وہ سب کرچکے، اور کررہے ہیں۔
بامتثال فرمان الٰہی’’یَأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لاَ یَأْلُونَکُمْ خَبَالاً‘‘[ترجمہ: مسلمانو!اپنے معاملہ میں ایسے منافق ودشمنان اسلام کو مشیر نہ بناؤ، جو تمہاری ذلت ورسوائی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں۔’’وَالَّذِیْنَ قَاتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوا عَلٰی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ‘‘ [ترجمہ: خداتم کو ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کرتاہے، جنہوں نے مذہبی معاملہ میں تم سے مقاتلہ کیا یا تمہارے گھر ..........[اصل میں کٹا ہوا ہے۔]
ہم مسلمانوں کامذہباً اور ہمارے برادران ہنود کا اخلاقاً فرض ہے کہ ہم مذکورۂ بالا جماعت سے ، جو دنیا کی تمام قوموں میں مسلمانوں او راسلام کی سخت ترین دشمن ثابت ہوئی ہے، ترک موالات او رعدم اشتراک عمل کہئے یانان کواپریشن ............[اصل میں کٹا ہوا ہے۔] اربعہ بعد غوروخوض وبحث ومباحثہ طے پاچکے اور مشتہر ہوچکے ہیں، ان پر عمل کریں، اور ثابت کردکھائیں کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور جو کچھ دل میں ٹھان لیتے ہیں، اس پر قائم رہتے ہیں یہا ں تک کہ کامیاب ہوجائیں اور ابھی تک ہم نے عرض ومعروض کے سوائے کچھ نہیں کیا تھا، مگر اب ہم اس کے لئے تیار ہیں ، خداہم کو اس میں کامیاب فرمائے، آمین ثم آمین
لیکن خدا نخواستہ اگر ا س میں ذرا تساہل ہوا اور ادعا واعلان کے بعد عمل میں کمی ہوئی، یعنی موالات واشتراک عمل اور کواپریشن باقی رہا تو پہلے خدائی وعید’’مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ فَاُوْلٰءِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ‘‘[ترجمہ:جوان کو دوست رکھیں گے وہ ظالم ہیں]اس کے بعد مثالاً اس واقعہ کو یاد رکھنا چاہئے کہ حاطب بن ابی بلتعہ ایک مہاجر وسروفروش سپاہی تھے، ایک موقع پر ان سے یہ لغزش ہوگئی، کہ انہوں نے کفار مکہ کو اپنے عیال واطفال کے خیال سے بذریعۂ خط یہ اطلاع دیدی کہ مسلمان مکہ پر چڑھائی کرنے والے ہیں، اس لغزش کاافشاء ہوا اور خط پکڑا گیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاطب بن ابی بلتعہ کو قتل کرنا چاہا اور فرمایا’’إِنَّہٗ مُنَافِقٌ قَدْ خَانَ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ‘‘یہ منافق ہے اور خداو رسول کی اس نے خیانت کی ، نیز یہ بھی یقین کرلینا چاہئے کہ اس کے بعد مسلمانان ہند خصوصاً اور تمام ہندوستانی عموماً کبھی کوئی دعویٰ نہ کرسکیں اور اس کا ثبوت نہ دے سکیں گے اور غیرت مند قوموں کے سامنے کسی طرح منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے اور دین دنیا کی ہر تکلیف پانے کے مستحق ہوں گے۔
المختصر ترک موالات ایک مذہبی شعار ہے او رایک قسم کا جہاد، مسلمانوں کو اس لحاظ سے اور برادران ہنود کو وطنیت اور برادری کے خیال سے مجلس ترک موالات کے فیصلہ کے مطابق ترک موالات کی ابتداء نہایت عزم واستقلال کے ساتھ یکم اگست ۱۹۲۰ء مطابق ۱۵؍ذ یقعدۃ الحرام ۱۳۳۸ھ حسب ذیل ہدایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک خاموش ومنتظم عام ہڑتال سے کردینی چاہئے کیونکہ شرائط صلح کی نظر ثانی کے لئے اگرچہ ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے مگر میعاد مقررہ کے اندر اس میں کامیابی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔
ہدایات
(۱) یکم اگست ۱۹۲۰ء مطابق ۱۵؍ ذیقعدۃ الحرام ۱۳۳۸ھ روز یکشنبہ کو نہایت مکمل عام ہڑتال کی جائے مگر کارخانوں میں کام کرنے والوں سے درخواست ہے کہ جب تک ان کے مالکان اجازت نہ دیں وہ کام نہ چھوڑیں ، علی ہذا ہسپتال کے ملازمین محکمۂ حفظان صحت کے کارگذار اور جہازوں کے مزدوروں سے بھی جن کے کام جاری رہنے کی ہر وقت ضرورت ہے، التماس ہے کہ وہ بھی اپنا کام نہ چھوڑیں۔
(۲) اس روز نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ معابدمیں دعائیں مانگی جائیں او رجولوگ روزے رکھ سکتے ہوں وہ روزے رکھیں مگر مسلمانوں کو چاہئے کہ بطور سنت ایک روزہ اس کے ساتھ اور ملالیں۔
(۳) ملک بھر میں جلسے کئے جائیں حتی کہ چھوٹے سے چھوٹا گاؤں بھی باقی نہ رہے تقریریں ہوں یا نہ ہوں مگر مندرجہ ذیل قرار داد ضرور منظور کی جائے۔
الف: ’’مقام..........کے باشندوں کا یہ جلسہ مرکزی خلافت کمیٹی کے اس تحریک کے تحت پوری پوری ہمدردی کا اعلان کرتاہے جو جمعیت مذکورہ، شرع اسلام واسلامی جذبات کے مطابق ترکی شرائط صلح پر نظر ثانی کرانے کی غرض سے کررہی ہے اور اس کے اختیار کردہ طرز عمل یعنی ترک موالات وعدم اشتراک عمل کو جو شرائط صلح کی مناسب نظر ثانی تک برابرجاری رہے گا تسلیم کرتاہے‘‘
ب: ’’ یہ جلسہ نہایت ادب کے ساتھ امپریل گورنمنٹ کو خود اس سلطنت[ایمپائر] کے مفاد کی خاطر جس کی وہ نمائندہ ہے اصرار وتاکید کے ساتھ ترغیب دلاتاہے کہ وہ ان شرائط صلح کی منصفانہ نظر ثانی کرائے جن پر بے انصافی اور اعلانات وزرات کی وعدہ شکنی ہونے کی وجہ سے تمام دنیا میں لعنت ونفرتیں کی گئی ہے۔
(۴) مذکورہ بالا قرار داد ادہزاکسلنسی جناب وائسرائے بہادر کی خدمت میں بذریعہ خط ملفوف جس میں اس قرارداد کو ایمپریل گورنمنٹ کی خدمت میں پیش کرنے کی درخواست بھی ہو بھیج دی جائے [تار کی ضرورت نہیں روپئے برباد ہوتے ہیں او ربہت برباد ہوچکے ]
(۵) تمام مقامی خلافت کمیٹیوں کو مشورہ دیا جائے کہ وہ اس قرار داد کی منظوری اور روانگی کی طرف خاص توجہ کریں۔
(۶) جلوس نہ نکالے جائیں، تقریروں میں اعتدال ومتانت کا پورالحاظ رکھا جائے۔
(۷) بڑے شہروں میں اگر جگہ کی قلت یا لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے حسن انتظام نہ ہونے کا اندیشہ ہو تو مذکورۂ بالا قرارداد ایک سے زیادہ جلسوں میں پڑھی ور منظور کی جائے۔
(۸) پولیس او رحکام کی تمام ہدایت اور ان کے تمام قواعد کی سختی کے ساتھ لازمی طورپر پیروی کی جائے او راگر کہیں تحریری حکم کے ذریعہ جلسہ کی ممانعت کردی جائے تو وہاں بغیر حصول اجازت جلسہ نہ کیاجائے۔
خلاصہ یہ کہ ہرایسے امر کاکامل لحاظ رکھا جائے جس سے اس تحریک کی کامیابی میں کوئی رکاوٹ ودشواری نہ پیدا ہو، اور اس کاانحصار صر ف اس امر پر ہے کہ امن برقرار رکھا جائے اور پولیس کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور یہ صاف طورپر سمجھ لیا جائے کہ یہ تحریک سول نافرمانی والی [سول ڈیس اوبیڈینس] تحریک نہیں ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ ظاہر کردینا بھی ضروری ہے کہ جس وقت اور جہاں کہیں ایسے ناجائز اور غیر معقول احکام جاری کئے جائیں گے جس سے رعایا کی جائز آزادی میں بیجا مداخلت ہوگی تو یہ مجلس اس پر خصوصیت وتوجہ کے ساتھ غور وفکر کرے گی۔
امید اور کامل توقع ہے کہ تمام اصحاب ان ہدایات پر کاربند ہوں اور خطاب یافتہ حضرات وآنریری مجسٹریٹ صاحبان اور جسٹز آف دی پیس اور ممبران لیجسلیٹو کونسلز اور وہ جملہ اصحاب جن کے ایک طرف تو گورنمنٹ سے عارضی اعزازی تعلقات ہیں اور دوسری طرف مذہب، قوم اور ملک کے وہ دوامی تعلقات ہیں جو مرنے کے بعد بھی قطع نہیں ہوں گے ایسے اہم مسئلہ، خلافت کا جس کے ساتھ کروڑوں مسلمانوں کی دینی ودنیوی بہبودی وابستہ ہے اس کو ضروری خیال کریں گے اوراسی روز اپنے خطابات واعزازات سے بھی دست بردار ہوجائیں گے۔
المشتہرین
ایم کے گاندھی، ابوالکلام آزاد، شوکت علی، احمد حاجی صدیق کھتری، سیف الدین کچلو، فضل الحسن حسرت موہانی،محمد علی
[ممبران مجلس ترک موالات وعدم اشتراک مہرمنشن ماؤنٹ روڈ، مجگام، بمبئی]
nhrashidkandhlavi@yahoo.com

