فلسطینی ذرائع نے 'العربیہ' کو اتوار کے روز اس سے پہلے ہی اس واقعے کے بارے میں تصدیق کرتے ہوئے بتا دیا تھا۔
نیتن یاہو نے کہا ہم نے القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ کو نشانہ بنایا ہے اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کا بیان باقاعدہ طور پر جاری کیا گیا ہے۔ جس میں انہوں نے کہا میں امید کرتا ہوں کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ تاہم میں یہ بھی نوٹ کر رہا ہوں کہ ابھی تک حماس کی کسی بھی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ تاہم یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔
ابوعبیدہ کئی سال سے القسام بریگیڈ کے ترجمان کے طور پر ویڈیوز کے ذریعے میڈیا میں آتے تھے۔ جس میں انہوں نے فوجی یونیفارم پہنا ہوتا تھا اور اس کے علاوہ سرخ رنگ کے فلسطینی کیفیہ سے بھی انہوں نے اپنے چہرے کو ڈھانپ رکھا ہوتا تھا۔
اب تک کی اس 23 ماہ کی جنگ کے دوران حماس اور القسام کے کئی اعلیٰ قائدین کو اسرائیلی فوج اور موساد نے نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ اس نے فلسطینیوں کی قیادت کو ختم کر دیا ہے۔
پچھلے سال 31 جولائی کو اسرائیلی حساس ادارے موساد نے ایران میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کو نشانہ بنایا۔ بعدازاں محمد ضیف جو القسام کے کمانڈر تھے انہیں بھی ایک ایسے ہی واقعے میں اسرائیلی فوج کی بمباری کا نشانہ بننا پڑا۔
یحییٰ سنوار جنہیں طوفان الاقصیٰ کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے بھی پچھلے سال کے اواخر میں ایک گھر کے اندر اسرائیلی فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے ڈرون کا نشانہ بن گئے۔
اتوار کی صبح القسام بریگیڈ کے نئے کمانڈر محمد سنوار جنہوں نے اپنے بھائی یحییٰ سنوار کے بعد ذمہ داری سنبھالی تھی ان کے بھی حوالے سے اسرائیلی دعوے کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کی بمباری کا نشانہ بن چکے ہیں۔
یاد رہے آج کل غزہ میں جھڑپوں کی خبروں میں شدت ہے اور اسرائیلی فوج کو ملبے کے ڈھیروں کے پیچھے سے اور غزہ کے گلی محلوں سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ گزشتہ روز 4 اسرائیلی فوجی لاپتہ ہوگئے تھے جن کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہیں القسام بریگیڈ نے گرفتار کر لیا ہے۔
اب تک غزہ کی اس اسرائیلی جنگ میں 63459 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہھں۔ ان میں بڑی تعداد سویلینز کی ہے اور سب سے زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔
