Masarrat
Masarrat Urdu

جماعت اسلامی ہند کا آئندہ چار سالہ منصوبہ

Thumb

نئی دہلی،14جون (مسرت ڈاٹ کام)ملک میں رائے عامہ میں مثبت تبدیلی لانا اور اسلام اور اسلامی تعلیمات کے تئیں برادران وطن میں جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ،انہیں دور کرنا اور اسلامی تعلیمات کو صحیح طور پر ان تک پہنچانا، سب کو تعلیم کے مساوی مواقع  اور انصاف ملے جیسے ایشوز جماعت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ "۔ یہ باتیں امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے مرکز میں منعقدہ پریس کانفرنس میں آج کہی۔

جماعت اسلامی بند کی مرکزی مجلس شوری نے کل جماعت کے چار سالہ منصوبے (2023 تا 2027) کو منظوری دی ہے۔ جماعت اسلامی اپنی چار سالہ میقات کے آغاز پر اپنا منصوبہ اور ترجیحات طے کرتی ہے اور اس کے مطابق کاموں کو آگے بڑھاتی ہے۔ یہ جانکاری آج جماعت اسلامی ہند کے خصوصی پریس میٹ کے دوران امیر جماعت اسلامی ہند نے دی۔
امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے نئے چار سالہ منصوبے میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو دی ہے کہ ملک کی رائے عامہ میں مثبت تبدیلی آئے۔ اسلام کے تعلق سے اور اسلامی تعلیمات کے تعلق سے غلط فہمیاں دور ہوں۔ اسلام کی تعلیمات کسی خاص فرقے یا کمیونٹی کے لیے نہیں ہیں بلکہ رب کی جانب سے تمام انسانوں کی فلاح و بہبود، سب کی دنیوی فلاح اور اخروی نجات اور سب کے ساتھ عدل و انصاف ان تعلیمات کی نمایاں خصوصیت ہے۔ جماعت چاہتی ہے کہ ملک کے تمام لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہو۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت کے چار سالہ منصوبے میں اس بات کو بڑی اہمیت دی گئی ہے کہ ملک کے مختلف مذہبی طبقات کے درمیان تعلقات بہتر ہوں۔ ڈائیلاگ اور گفت و شنید کی فضا پیدا ہو نفرتیں ختم ہوں۔ اس کے لیے ملک گیر سطح پر بھی اور ریاستوں اور یونٹوں کی سطح پر بھی طرح طرح کی سرگرمیاں اور مہمات انجام دی جائیں گی۔ مختلف سطحوں پر ڈائیلاگ اور گفتگو کے پلیٹ فارمس فروع دیے جائیں گے۔ دانشوروں کے درمیان، مذہبی قائدین کے درمیان عام عوام کے درمیان، سول سوسائٹی سے وابستہ لوگوں کے درمیان، نوجوانوں کے درمیان، خواتین کے درمیان ایسے پلیٹ فارمس تشکیل دیے جائیں گے جن کے ذریعہ مختلف مذہبی طبقات کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے گا اور سب کی بھلائی اور عدل و انصاف کے لیے مل جل کر کام کرنے کی فضا پروان چڑھائی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت نے یہ بھی طے کیا ہے کہ ملک میں پائی جانے والی عام خرابیوں مثلاً اونچ نیچ، عصبیت، لڑکیوں
اور خواتین کی حق تلفی، جنین کشی ،جہیز، منشیات، کرپشن وغیرہ کے خلاف مسلسل مہمات چلائی جاتی رہیں گی۔ ماحولیاتی بحران کے سلسلے میں اسلامی نقطہ نظر واضح کیا جائے گا اور ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے مختلف شہروں میں مختلف النوع خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔
امیر جماعت نے مزید کہا کہ جماعت کے پروگرام میں مسلم ملت کے اندر ریفارمس کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ مسلمانوں کے اندر بیداری لائی جائے گی۔ دین پر عمل کرنے اور دین کا نمونہ بننے کے لیے ان کو آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ خاص طور پر دین کے وہ پہلو جن پر اصلاحی تحریکوں کا زور قدرے کم ہے ان پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مثلاً نکاح آسان ہو جہیز وغیرہ کی رسم ختم ہو، وراثت میں خواتین کو حصہ دیا جائے، خواتین کے حقوق ادا کیے جائیں، تجارت اور مالی معاملات میں ایمان داری بو، صفائی ستھرائی ہو، مسلم و غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک ہو، اس طرح کی اسلامی تعلیمات کو نمایاں کیا جائے گا اور ان کے سلسلے میں مسلمانوں کے عملی رویوں کو اسلام کی تعلیمات سے ہم اہنگ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اس پریس میٹ کے  دوران امیر جماعت نے اپنی نئی ٹیم کے ساتھیوں کا بھی تعارف کرایا۔

Ads