ریلی میں شامل ہونے سے پہلے کانگریس اور انڈیا اتحاد کے لیڈر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ 10 راجاجی مارگ پر جمع ہوئے تھے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو، ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی، ی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد) کی سپریا سولے، راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیجسوی یادو، نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ، سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر رام گوپال یادو، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی، ترنمول کانگریس کے لیڈر ابھیشیک بنرجی اور کانگریس جنرل سکریٹری کے. سی. وینوگوپال سمیت کئی سینئر لیڈران ایک ہی بس میں سوار ہو کر ریلی کے لیے نکلے۔ بس میں مسٹر گاندھی سب سے آگے بیٹھے ہوئے تھے۔
اپوزیشن لیڈران کھلی گاڑیوں میں قافلے کے ساتھ منٹو روڈ پہنچے۔ پروگرام کے مطابق منٹو روڈ سے مسٹر گاندھی، مسٹر یادو سمیت اہم لیڈروں کو ریلی کی شکل میں پیدل مارچ کرتے ہوئے ریلی کے مقام رام لیلا میدان تک پہنچنا تھا، لیکن لوگوں کا ہجوم منٹو روڈ سے لے کر ریلی کے مقام تک امڈ پڑا تھا، اس لیے کھلی گاڑیوں کے ذریعے ان لیڈروں کو آہستہ آہستہ بھیڑ کے ساتھ ریلی کے مقام تک پہنچنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اپوزیشن لیڈران قافلے کے ساتھ بڑی تعداد میں امڈے کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ انتہائی آہستہ چلتی کھلی گاڑیوں میں آگے بڑھتے رہے۔ بھیڑ اتنی زیادہ تھی کہ گاڑیوں کی رفتار بے حد سست رہی اور ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا وقت لگ گیا۔
مارچ کے پورے راستے میں کانگریس، سماجوادی پارٹی، کمیونسٹ پارٹیوں اور اتحاد کی دیگر رکن جماعتوں کے پرچم لہراتے رہے۔ سڑک کے دونوں طرف بڑی تعداد میں لوگ مسٹر گاندھی، مسٹر کھڑگے، پرینکا گاندھی واڈرا، ممتا بنرجی اور اکھیلیش یادو سمیت دیگر لیڈروں کی ایک جھلک پانے کے لیے بے تاب دکھائی دیے۔ کارکنوں میں زبردست جوش و خروش تھا۔ سکیورٹی اہلکار بھیڑ کو لیڈروں کی گاڑیوں سے دور رکھنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے۔
اپوزیشن اتحاد کی اس ریلی میں ووٹر لسٹ کی بے ضابطگیوں، ’ووٹ چوری‘ اور ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظراثانی (ایس آئی آر) کے مسائل اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
ریلی سے پہلے مسٹر گاندھی نے لوگوں سے اس میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے سوشل میڈیا 'ایکس' پر کہا تھا: ”دہلی چلو، تیار ہو جاؤ! ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ۔ کناٹ پلیس آئیے، ساتھ چلتے ہیں۔ یا براہ راست رام لیلا میدان میں ملتے ہیں، مگر آنا ضرور ہے۔“
ریلی کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے بسوں کے ذریعے کارکنان بھی دہلی پہنچے تھے۔
