مسٹرگاندھی نے اپوزیشن کے انڈیا اتحاد کی ‘ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ’ ریلی کو یہاں اتوار کو رام لیلا میدان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹانا اپوزیشن کا پہلا ہدف ہے اور وہ عہدے سے ہٹیں گے نیز جیل جائیں گے۔ انہوں نے کہا، ”آپ آئین سے بڑے نہیں ہیں۔“ طویل عرصے سے ووٹ چوری ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش، ہریانہ، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد تقریباً ساڑھے تین کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔ تقریباً 60 ووٹروں میں سے ایک ووٹر کا نام فہرست سے ہٹا اور اس طرح تقریباً 15 فیصد ووٹروں کو فہرست سے ہٹایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) اور اپوزیشن کے درمیان ووٹوں کا فرق صرف تین فیصد تھا۔ ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کے عمل نے انتخابی نتائج کو متاثر کیا اور یہ ملک کے شہریوں کی آواز چھیننے جیسا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ عام چوری نہیں بلکہ ملک کے ہر شہری کی آواز اور اظہار رائے کے حق کی بھی چوری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اگر ووٹوں کی ہیرا پھیری نہ کرتے، ووٹ چوری نہ کرتے تو مسٹر نریندر مودی وزیر اعظم اور مسٹر امت شاہ وزیر داخلہ نہیں بن سکتے تھے۔ انہوں نے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، عدلیہ اور بیوروکریسی جیسے اداروں پر قبضہ کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کا مقصد ملک کے لوگوں کے مفادات کی حفاظت کرنا ہے لیکن مودی حکومت کا ان اداروں پر قبضہ ہے اور ان پر کنٹرول کی وجہ سے نوجوانوں، غریبوں، کسانوں اور مزدوروں کو ان کا حق نہیں مل رہا ہے، جبکہ اڈانی اور امبانی جیسے بڑے صنعت کاروں کے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو ایسا ہندستان نہیں چاہیے جہاں غریبوں کے پیسے کا استعمال کچھ مخصوص لوگوں کے فائدے کے لیے ہو اور عام شہریوں کو عزت نہ ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک غریب آدمی اگر بینکوں سے لون لیتا ہے اور لوٹانے کی حالت میں نہیں ہے تو اسے سزا دی جاتی ہے لیکن صنعت کار پیسہ ڈکار رہے ہیں اور ان کا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ کسان محنت کرتا ہے اور اپنے خون پسینے سے ملک کو سینچتا ہے، تو اسے اس کا پھل ملنا چاہیے۔ اسی طرح طلبہ کو ان کی محنت اور پڑھائی کا مناسب نتیجہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری کے لیے ذمہ دار لوگوں کو جواب دینا ہوگا اور ملک کے عوام کو انصاف ملنا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کانگریس اور اپوزیشن اتحاد کے لوگ کسی سے نفرت نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو اپنا دشمن مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لوگ نفرت نہیں بلکہ محبت کی دکان چلانے والے لوگ ہیں، تشدد کے بجائے عدم تشدد پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی، مسٹر شاہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے ملک میں نفرت پھیلائی ہے، جس سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین اور اس کی روح پر حملہ ہوا ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ملک کے لوگ نفرت اور دشمنی نہیں بلکہ بھائی چارہ، پیار اور محبت چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں محبت کی دکان کھلنے جا رہی ہے اور اس محبت کے بل پر اب ہندستان صحیح راستے پر آگے بڑھے گا۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ مظاہرہ کسی ایک سیاسی جماعت یا لیڈر کے خلاف نہیں، بلکہ پورے ہندستان اور اس کی روح کی آواز ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹ چوری بہت بڑا جرم ہے اور مسٹر کمار نے بہت بڑا جرم کیا ہے۔ ووٹ چوری کے معاملے میں ذمہ دار لوگوں کو جواب دہ بنا کر ملک کے لوگوں کو انصاف دلانا ہوگا اور یہ کام ہو کر رہے گا۔
